تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 22
حضرت علیؓ کو جب کوئی بڑی مصیبت پیش آتی تو وہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیا کرتے تھے۔کہ یَاکٓھٰیٰعٓصٓ اِغْفِرْلِیْ (فتح البیان سورۃ مریم زیر آیت کھیعص)۔یعنی اے کٓھٰیٰعٓصٓمجھے معاف فرما دے اور چونکہ دعا کا صفات الہٰیہ سے خاص تعلق ہوتا ہے اس لئے یہ روایت بتاتی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھیکٓھٰیٰعٓصٓ کو صفات الٰہیہ کا قائم مقام سمجھتے تھے۔حضرت ابن عباسؓ نے بھی ان حروف مقطعات سے صفات الٰہیہ ہی مراد لی ہیں مگر انہوں نے ام ہانیؓ والی روایت سے کچھ اختلاف کیا ہے وہ کہتے ہیں ک کَبِیْرٌکا ہے ھاء ھَادٍ کی ہے یَاء اٰمِیْنٌ کی ہے ع سے عَزِیْزٌ مراد ہے اور ص سے صَادِقٌ مراد ہے (فتح البیان سورۃ مریم زیر آیت کھیعص)گویا حضرت ابن عباسؓ یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ یہاں صفات الٰہیہ کا ذکر کیا گیا ہے مگر وہ اس کی تشریح میں کچھ اختلاف کرتے ہیں۔ام ہانی ؓ کی روایت میں ک سے کافٍ مراد لیا گیا تھا مگر ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ اس سے کَبِیْرٌ مر اد لیا ہے دوسرے ع سے انہوں نے عَالِمٌ یا عَلِیْمٌ مراد لیا تھا مگر ابن عباسؓ اس سے عَزِیْزٌ مراد لیتے ہیں۔اسی طرح ام ہانی کی روایت میں یاء کو چھوڑ دیا گیا تھا مگر ابن عباسؓ یاء سے اٰمِیْنٌ مراد لیتے ہیں۔ابن مسعودؓ اور بعض اور صحابہؓ کہتے ہیں کہ ک سے اَلْمُلْکُ مراد ہے ھاء سے اَلْاِ لٰہُ مراد ہے یاء اور ع سے العَزِیْزُ مراد ہے اور ص سے المُصَوِّرُ مراد ہے۔( فتح البیان سورۃ مریم زیر آیت کھیعص) یہ روایتیں گو مختلف ہیں مگر ہم ان سے اتنا نتیجہ نکالنے میں ضرور حق بجانب ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابہؓ نے بالاتفاق ان حروف سے صفات الٰہیہ مراد لی ہیں گو ان کی تعیین میں بعض صحابہ ؓ نے اختلاف کیا ہے لیکن یہ ظاہر ہے کہ جو تعیین رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی وہی مقدم ہے اور صحابہؓ کی تعیین رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعیین کے مقابلہ میں محض ظنی سمجھی جائے گی اگر ابن مسعودؓ کچھ اور معنے کرتے ابن عباس ؓ کچھ اور معنی کرتے حضرت علیؓ کچھ اور معنی کرتے تو ہم کہہ سکتے تھے کہ سب نے اپنے اپنے پاس سے معنے بنالئے ہیں۔مگر حضرت علیؓ بھی ان سے صفات الہٰیہ مراد لیتے ہیںحضرت ابن عباس ؓ بھی صفات الٰہیہ مراد لیتے ہیں اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بھی ان سے صفات الٰہیہ مراد لیتے ہیں۔پس ان روایات سے اتنا تو پتہ لگ گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ثابت ہے کہ یہ حروف صفات الٰہیہ کے قائم مقام ہیں۔باقی ہر شخص کا اپنی اپنی عقل کے مطابق کچھ صفات الٰہیہ تجویز کرلینا کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔اس اصولی امر میں ہمیں سب متفق نظر آتے ہیں۔کہ ان حروف میںصفات الٰہیہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے رہا یہ کہ ان حروف میں کونسی صفات بیان کی گئی ہیں اس کو سورۃ کا