تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 222

خواب آگئی کہ مریم کو اپنے گھر میں لے آکیونکہ وہ جو کچھ کہتی ہے ٹھیک کہتی ہے۔مگر جس کو خواب آگئی اُس کی تو تسلی ہوگئی کہ میری بیوی بدکار نہیں۔لیکن شہر والے تو نہیں مان سکتے تھے جو بھی سُنے گا وہ کہے گا کہ حرام کا ہے۔اور کوئی خاوند یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ اس کی بیوی کو بد کار کہا جا ئے۔پس چونکہ لوگوں میں بدنامی کا ڈر تھا۔اِس لیے تین چار مہینے جب تک کہ حمل چھپ سکتا تھا وہ اپنے گھر میں رہے اورجب دیکھا کہ پیٹ بڑا ہورہا ہے اور حمل اب چھپ نہیں سکتا تو ایک دور کے علاقہ میں چلے گئے اور وہا ں جا کر بچہ پیدا ہوا۔اب لوقا کےلئے اس بات کے اظہار میں کیا مشکل تھی لوقا کے لئے یہ مشکل تھی کہ وہ صرف یہی نہیں بتاتا کہ مریم کو خواب میں فرشتہ ملا اور اُس نے بتایا کہ تو حاملہ ہوگی بلکہ وہ ساتھ ہی معجزے بھی بیان کرنے شروع کردیتاہے۔کہ ادھر مریم حاملہ ہوئیں اور اُدھر خداوند کے ظہور کی وجہ سے معجزے ظاہر ہونے لگ گئے۔چنانچہ مریم حضرت زکریا کی بیوی سے ملنے گئیں تو وہ کہنے لگیں کہ ‘‘میرے خداوند کی ماں میرے پاس آئی ہے ‘‘اور پھر کہا کہ ’’ دیکھو تیرے سلام کی آواز جونہی میرے کا ن تک پہنچی لڑکا میرے پیٹ میں خوشی سے اُچھل پڑا۔‘‘(لوقا باب۱آیت ۴۳و۴۴) اور یہ ظاہر بات ہے کہ جب اس حمل کے ساتھ ہی معجزات ظاہر ہونے لگ گئے تھے تو حمل کو چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔مگر اِدھر واقعات بتارہے تھے کہ یوسف اور مریم ایک لمبے عرصہ تک باہر رہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یوسف کو خواب آچکی تھی کہ میری بیوی کا کوئی قصور نہیں۔مگر صرف یوسف کی خواب سے کیا بنتا تھا۔سوال لوگوں میں بدنامی کا تھا پس یوسف نے یہ تدبیر کی کہ جب تک حمل چھپ سکتا تھا انہیں اپنے گھر میں رکھا اور جب دیکھا کہ اب حمل چھپ نہیں سکتا تو وہ اُنہیں کسی دور مقام پر لے گیا تاکہ لوگوں میں بدنامی نہ ہو اور بچہ کہیں باہر ہی پیدا ہوجائے لیکن لوقا کی غرض یہ تھی کہ مسیح کی خدائی ثابت کرے اِس لئے اُس نے حمل کے ساتھ ہی مسیح کے معجزے بیان کرنے شروع کردئے کہ ابھی وہ اپنی ماں کے پیٹ میں ہی تھا کہ زکریا کی بیوی حضرت مریم کو دیکھ کر کہہ اُٹھیں کہ میرے خداوند کی ماں میرے پاس آئی ہے بلکہ زکریا کی بیوی تو الگ رہی۔یوحنا جو ابھی اپنی ماں کے پیٹ میں تھا وہ بھی خوشی سے اچھل پڑا اور پیٹ میں ہلنے لگ گیا۔پس لوقا نے یہ سمجھا۔کہ اگر حمل کی وجہ سے مریم کا باہر جانا ثابت ہو تو یہ خیال کیاجائے گا کہ گویا مریم اور اُس کے خاوند یوسف اللہ تعالیٰ کے اِس قدر نشانات اور معجزات کے باوجود لوگوں کے اعتراض سے ڈرتے تھے لیکن اِدھر وہ اس امر سے بھی انکار نہیں کر سکتا تھا کہ یوسف اور مریم باہر گئے پس سوال پیدا ہوتا تھا کہ جب یہ حمل معجزانہ تھا اور جب حمل کے ساتھ ہی مسیح کے معجزات بھی ظاہر ہونے لگ گئے تھے تو پھر اس حمل کو چھپانے کی ضرورت نہیں تھی اور جب نہیں تھی تو پھر یوسف اور مریم باہر کیوں گئے۔اس اعتراض سے بچنے کے لئے وہ سات سال بعد کی مردم شماری کے واقعہ کو پہلے بیان کرتاہے