تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 221

کھجوریںبہت کم ہوتی ہیں۔اس سے لازماََ یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قرآن کریم کے نزدیک حضرت مسیح ؑ کی پیدائش اس موسم میں جس میں کھجور لگی ہوئی ہوتی ہے مسیحی تاریخوں سے پتہ لگتا ہے کہ مسیح ۲۵دسمبر کو پیدا ہو۔بعض اس کا وقت اپریل بتاتی ہیں (انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن آف ایتھکس زیر لفظ Chrismas)۔مگر دسمبر یا اپریل میں کھجور درخت پر بہت کم ہوتی ہے۔پس ہمیں اس مسئلہ کی مزید تحقیق کی ضرورت پیش آتی ہے۔میں نے کہا تھا کہ لوقا نے جوکچھ بیان کیاہے اگر اُس میں غلط بیانی کی کوئی وجہ نہیں تو ٹھیک ہے لیکن اب اس قرآنی آیت نے ہمیں مجبور کردیا ہے کہ ہم وہ وجہ تلاش کریں جس کی بناء پر ان دونوں باتوں کا آپس میں جوڑ نظر نہیں آتا۔اس نقطہ نگاہ سے اب ہم پھر تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ لوقا کو مردم شماری کے بارہ میں غلطی لگی ہے۔وہ کہتا ہے کہ یوسف اور مریم مردم شماری کی غرض سے ناصرہ سے بیت لحم گئے۔لیکن جب ہم روما کی تاریخ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں پتہ لگتا ہے کہ مسیح کی پیدائش کے سن میں کوئی مردم شماری ہوئی ہی نہیں اور جوزیفس جو مسیح کے زمانہ کا سب سے بڑا مؤرخ ہے وہ لکھتا ہے کہ پہلی مردم شماری ۷ ؁بعدمسیح میں ہوئی ہے سات سال پہلے کوئی مردم شماری نہیں ہوئی اور وہ لکھتا ہے کہ یہ یہود کے لئے اتنی نئی چیز تھی کہ وہ حیران ہوتے تھے اور تعجب کرتے تھے کہ اس مردم شماری کی غرض کیا ہے۔اگر سات سال پہلے بھی مردم شماری ہوچکی ہوتی تویہود اتنے حیران کیوں ہوتے ؟ علاوہ ازیں تاریخ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہیروڈ (HEROD)کی وفات کے وقت کون سٹیسلس واردس گورنر تھا لوقا کا بیان کردہ کورینس(QUIRINIUS) نہیں تھا بلکہ رومی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے گورنر سینٹی نس (SENTINIS) اور (TITNIS) تھے۔اول الذکر ۹قبل مسیح سے ۶قبل مسیح تک رہا۔اور دوسرے کا ذکر تاریخ میں ۱۰ قبل مسیح میں آتا ہے۔(انسائیکلوپیڈیا ببلیکازیر لفظ کرانیکل) اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ مسیح کی پیدائش سے دس سال قبل سے لے کر ہیروڈ کی وفات تک کورنیس نام کا کوئی گورنر تھا ہی نہیں۔پس جبکہ دس سال قبل مسیح سے بعد وفات ہیروڈ تک کے گورنروں کے نام ہمیں معلوم ہیں اور اُن میں سے کوئی بھی لوقا کا بیان کردہ کورنیس نہ تھا اور جوزیفس کے بیان کے مطابق اُس وقت کوئی مردم شماری ہوئی ہی نہ تھی تو ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ لوقا کے ذہن میں واقعات مشوش ہوگئے ہیں۔یا تو اُس نے مردم شماری کا ذکر سُن کر جو کئی سال بعد ہوئی تھی یہ سمجھ لیا کہ وہ پہلے ہوئی تھی اور یوسف اس کے لئے باہر گئے تھے اور پھر پیدائش کا واقعہ اُس نے ساتھ ملالیا۔اور یا پھراُس نے جان بوجھ کر اُن واقعات کو بدلا۔اور یہی حقیقت ہے۔اب میں بتاتا ہوں کہ کس طرح قرآنی بات سچی ثابت ہوتی ہے۔بات یہ ہے کہ حضرت مریم بغیر خاوند کے حاملہ ہوئیں۔خاوند نے شور مچایا کہ یہ میرا حمل نہیں۔اِدھر خاوند کو