تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 223
تاکہ یوسف اور مریم کے باہر جانے کی ایک قانونی وجہ نکل آئے اور لوگو ں کو بتایا جا سکے کہ وہ حمل کو چھپانے کے لئے باہر نہیں گئے بلکہ اس لئے گئے تھے کہ قیصر نے مردم شماری کا حکم دیا تھا اور اُن کابیت لحم میں جانا ضروری تھا پس رومی تاریخ کے واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ لوقا نے پردہ ڈالا۔در حقیقت یہ مردم شماری اُس وقت نہیں ہوئی محض پیدائش کو چھپانے کے لئے یہ سفر تھا نہ کہ مردم شماری کے لئے۔اور واقعہ بھی یہی ہے یوسف خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت حضرت مریم کو اپنے گھر تو لے آیا مگر دیکھا کہ اگرمیں مریم کو پنے گھر میں ہی رکھوں تو میری ناک کٹتی ہے پس اُس نے یہ تدبیر کی کہ جب حمل چھپ نہیں سکتا تھا تو وہ انہیں اپنے ساتھ لے کر کسی بہانہ سے سفر پر چلاگیا۔اب سیدھی بات ہے کہ اگر وہ بچہ پیدا ہونے کے فوراََ بعد ہی اپنے شہر میں واپس آجاتے تو اعتراض قائم رہتا کہ مریم کو تمہارے گھر آئے تو ابھی پانچ ماہ ہی ہوئے تھے یہ بچہ کہاں سے پیدا ہوگیا اگر وہ ٹھیک نوماہ کے بعد بھی واپس آتے اور کہتے کہ کہ جائز حمل کے نتیجہ میں پید ا ہوا ہے تو بچہ کی شکل سے لوگ پہچان جاتے کی یہ نوزائیدہ بچہ ہے یا اس کی پیدائش پر چار پانچ ماہ گذر چکے ہیں۔اس بات کو چھپانے کا صرف ایک ہی طریق تھا کہ وہ کئی سال باہر رہتے چنانچہ بڑی عمر کا بچہ لے آئو تو پھر کچھ پتہ نہیں لگ سکتا کہ وہ کب پیدا ہوا۔اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اُن کو کئی سال باہر رہنا پڑا۔میں قیاساََ سمجھتا ہوں کہ وہ آٹھ نو سال باہر رہے اور پھر واپس آئے۔بہر حال چونکہ یوسف حضرت مریم کو اپنے گھر لے آئے تھے لیکن گھر لانے سے پہلے چند ماہ کا حمل تھا۔اس لئے سمجھاجا سکتا ہے کہ اگر وہ چند سال باہر رہتے تو اس پر پر دہ پڑ جاتا اور یہ سمجھا جاتا کہ عیسیٰ شادی کے بعد جائز حمل سے پیدا ہوئے ہیں لیکن اگر اُسی وقت لے آتے تو راز فاش ہوجاتا۔فرض کرو یوسف حضرت مریم کو اپریل میں اپنے گھر لایا تو لوگ حمل کا وقت اپریل سے شروع کریں گے اور اس طرح اُن کے نزدیک دسمبر میں بچہ پیدا ہو جانا چاہیے۔اگر وہ اگست ستمبر میں پیدا ہوجاتا ہے تو لوگ کہیں گے کہ یہ حرام کا بچہ ہے۔کیونکہ خاوند تو اسے اپریل میں اپنے گھر لایا تھا اور بچہ اگست ستمبر میں پیدا ہو گیا۔اگر وہ بچہ کہیں باہر جنوالیتا ہے اور واپس اُس وقت آتا ہے جب شادی پر نو مہینے گذر جاتے ہیں تب بھی ہر شخص جو بچے کو دیکھے گا کہے گا کہ یہ تو ایک مہینے کا ہے ہی نہیں۔وہ کہے گا کہ یہ دسمبر میں پیدا ہوا ہے اور لوگ کہیں گے کہ یہ تین چار ماہ کا معلوم ہوتاہے۔آخر کون شخص ہے جو تین مہینے اور ایک مہینہ کے بچہ میں فرق نہ کر سکے پس اگر یوسف دسمبر میں ہی اپنے بچے کو لے آتے اور کہتے کہ یہ اِسی مہینہ میں پیدا ہوا ہے تو ہر شخص کہتا کہ یہ بالکل غلط بات ہے یہ تو پانچ چھ ماہ پہلے کا معلوم ہوتاہے۔اِس پر پردہ اُسی صورت میں پڑ سکتا تھا جب وہ کئی سال باہر رہتے۔چونکہ قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ حضرت مسیح اس موسم میں پیداہوئے جس موسم میں کھجور تیا ر ہوتی ہے اور کھجور زیادہ تر جولائی اگست میں