تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 220

دیا کہ حضرت مریم کھجور کے تنہ کے پاس درد کا سہارا لینے گئی تھیں۔انہیں خیال آیا کہ مسیح کی پیدائش دسمبر میں بتائی جاتی ہے اور دسمبر میںکھجورکے درخت پر بہت کم پھل لگتا ہے پھر وہ کھجور کے سوکھے درخت کے پاس کیوں گئی تھیں۔اِس کا جواب اُنہوں نے یہ سوچا کہ وہ درد کا سہار الینے گئی تھیں۔مگر انہیں یہ خیال نہ آیا کہ ساتھ ہی قرآن نے یہ بھی کہا ہے کہ کھا اور یہ بھی کہا ہے کہ کھجور کے تنہ کو ہلا تو تجھ پر تازہ کھجوریں گریںگی صرف اس وجہ سے کہ عیسائی بیان اُن کے سامنے تھا کہ مسیح دسمبر میں پیدا ہوئے اوردسمبر میں کھجور کو بہت کم پھل لگتا ہے انہوں نے یہ معنے کر لئے کہ وہ سہارا لینے کے لئے کھجور کے سوکھے درخت کے پاس گئی تھیں لیکن بعض مفسروں کو فَكُلِيْ اور تُسٰقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا کا بھی خیال آیا ہے اور انہوں نے لکھا ہے کہ یہ ایک معجزہ تھا۔حضرت مریم کھجور کے سوکھے درخت کو ہلاتیں تو تازہ بتازہ کھجوریں گرنی شروع ہوجا تی تھیں (تفسیر کبیر لامام رازی)۔دوسری مشکل ہمارے سامنے یہ پیش آتی ہے کہ یہ واقعہ یہود یہ میں ہوا ہے۔قرآن اس موقعہ پر کھجور کا ذکر کرتا ہے اور بائبل کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں زیتون بادام اور انگور ہوتا تھا کھجور کا ذکر نہیں آتا (قاموس الکتاب تحت بیت لحم)اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ دسمبر میں بادام بھی نہیں ہوتا۔انگور بھی نہیں ہوتا اور زیتون بھی نہیں ہوتا گویا قرآن صرف کھجور کا ذکر کرتا ہے مگر دسمبر میں کھجور بہت کم ہوتی ہے اور تاریخ بائبل یہودیہ میں زیتون بادام اور انگور کا تو ذکر کرتی ہے لیکن کھجور کا ذکر نہیں کرتی۔اور پھر یہ تینوں چیزیں بھی دسمبر میں نہیں ہوتیں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیااس علاقہ میں جس میں انجیل حضرت مسیح کی پیدائش بتاتی ہے کھجور ہوتی تھی یا نہیں۔اِس کے متعلق جب ہم بائبل کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ خود بائبل اس بات پر گواہ ہے کہ اُس علاقہ میں کھجور ہوا کرتی تھی۔چنانچہ لکھا ہے ’’تب موسیٰ کے سُسر قینی کی اولاد کھجوروں کے شہر سے بنی یہوداہ کے ساتھ یہوداہ کےبیابان کو جو عراد کے دکھن کی طرف ہے چڑھیں۔‘‘ (قاضیوں باب ۱آیت ۱۶) عراد جس کا حوالہ میں ذکر آتا ہے بیت لحم سے کوئی سو میل کے فاصلہ پرہے اور چونکہ اس سے شمالی کی طرف کھجوروں کا شہر تھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیت لحم کے قریب قریب یقیناً کھجوریں پائی جاتی تھیں پھر یہودیہ کا علاقہ جس میں بیت لحم ہے چونکہ عرب سے ملتا ہے اس لئے بھی اُس میں کھجوروں کا پایا جانا بالکل قرین قیاس ہے لیکن اس تحقیق سے اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ تک تو بات ٹھیک ہوگئی۔پتہ لگ گیا کہ اُس علاقہ میں کھجور پائی جاتی تھی لیکن یہ سوال ابھی حل نہیں ہوا کہ قرآن کہتا ہے کہ مسیح جس موسم میں پیدا ہوئے اُس وقت کھجوریں درخت پر لگی ہوئی تھیں اور کھجوریں بھی پختہ تھیں اور کھانے کے قابل تھیں۔اور عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت مسیح دسمبر میں پیدا ہوئے جبکہ