تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 219

آسمان پر اٹھا لیا ہے پس یہ معنے اُن کی اِسی دیرینہ ذہنیت کا نتیجہ ہیں حالانکہ بات سیدھی تھی بچہ پیدا ہوا تو ماں کو اپنی اور بچہ کی صفائی کے لئے پانی کی ضرورت تھی۔خیال تھا کہ کپڑ ے دھونے اور بچے کو نہلانے کے لئے پانی کہاں سے آئے گا فرشتے نے کہا کہ نیچے پانی موجود ہے وہاں سے اپنی ضرورت پوری کرلو اور جغر افیہ سے ثابت ہے کہ بیت لحم میں پہاڑی کے نیچے چشمے موجود ہیں۔اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں یہ مضمون بیان فرمایا ہے کہ فَكُلِيْ وَ اشْرَبِيْ وَ قَرِّيْ عَيْنًا یعنی کھا اور پی اور اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کر۔کھجور کا ذکر چونکہ پہلے آچکا ہے اس لئے مراد یہ ہے کہ کھجوریں کھا اور پانی پی اور تجھے یہ جو فکر تھا کہ میں گندکا کیا علاج کروں گی اُس کو اب دُور کردے اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔یہ اگلی عبارت صاف طور پر بتارہی ہے کہ یہاں سَرِيًّا کے معنے رفعت کے نہیں بلکہ چشمہ کے ہیں۔پہاڑی کے نشیب میں چشمہ تھا۔خدا تعالیٰ نے کہا کہ کھجوریں کھا۔پانی پی او ر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔اب اس مقام پر ایک بہت بڑی مشکل پیش آجاتی ہے جس کو حل کرنا ہمارے لئے نہایت ضروری ہے اور وہ یہ کہ عیسائی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ حضرت مسیح ؑ کی پیدائش ۲۵دِسمبرکو ہوئی اور لوقا کہتا ہے کہ قیصر اگسطُس نے اُس وقت مردم شماری کا حکم دیا تھا جس کے لئے یوسف اور مریم ناصرہ سے بیت لحم گئے اور وہیں حضرت مسیح کی پیدائش ہوئی۔گویا ۲۵ دسمبر کو۔اُس زمانہ میں جب کہ قیصر اگسطُس کے حکم کے ماتحت یہودکی پہلی مردم شمارہوئی مسیح ؑبیت لحم میں پیدا ہوئے(لوقا باب ۲ آیت ۱ تا ۵)۔لیکن قرآن بتاتا ہے کہ مسیح اس موسم میں پیدا ہوئے جس میں کھجور پھل دیتی ہے اور کھجور کے زیادہ پھل دینے کا زمانہ دسمبر نہیں ہوتا بلکہ جولائی اگست ہوتا ہے۔اور پھر جب ہم یہ دیکھیں کہ خدا تعالیٰ نے انہیں ایک چشمے کا بھی پتہ بتایا جہاں وہ اپنے بچے کو نہلا سکتی تھیں اور اپنی بھی صفائی کر سکتی تھیں تو اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ جولائی اگست کا مہینہ تھا ورنہ سخت سردی کے موسم میں چشمہ کے پا نی سے نہانا اور بچے کو بھی غسل دینا خصوصاََ ایک پہاڑ پر اور عرب کے شمال میں عقل کے بالکل خلاف تھا۔لیکن عیسائی تاریخ یہی کہتی ہے کہ حضرت مسیح ؑ دسمبر میں پیدا ہوئے۔اور اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ حضرت مسیح کی پیدائش دسمبر میں ہوئی تھی تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن تو حضرت مریم سے کہتا کہ هُزِّيْۤ اِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا تو کھجور کے تنا کو ہلا تجھ پر تازہ کھجوریں گریں گی۔حالانکہ کھجور اُس وقت بہت کم ہوتی ہے۔کھجور زیادہ تر جولائی اگست میں ہو تی ہے اور مسیح کی پیدائش دسمبر میں پیدا ہوئی۔پس اگریہ درست ہے کہ مسیح دسمبر میں پیدا ہوئے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن نے کھجور کا کیوں ذکر کیا جبکہ کھجوریں اُس موسم میں ہوتی ہی نہیں۔اس اعتراض سے ڈر کر ہمارے مفسرین نے یہ لکھ