تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 217
فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِيْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ پس (فرشتہ نے )اس کو نچلی جانب کی طرف سے پکارکر کہا کہ (اے عورت) غم نہ کر اللہ (تعالے ٰ) نے تیر ی نچلی سَرِيًّا۰۰۲۵وَ هُزِّيْۤ اِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَيْكِ جانب ایک چشمہ بہایا ہوا ہے (اس کے پاس جا اور اپنی اور بچہ کی صفائی کر ) اور (وہ ) کھجور (جو تیرے قریب ہوگی رُطَبًا جَنِيًّاٞ۰۰۲۶ اس)کی ٹہنی کو پکڑ کر اپنی طرف ہلا۔وہ تجھ پر تازہ بتازہ پھل پھینکے گی۔حل لغات۔تَحْتَ کے معنے نیچے کے بھی ہوتے ہیں اور نشیب کے بھی ہوتے ہیں کیونکہ نشیب بھی نیچے کی طرف ہوتا ہے اگر تم کسی پہاڑ پر جارہے ہوتو وہ جگہ بھی نیچے کہلائے گی جس طرف پہاڑی اُترتی ہو اور وہ جگہ جو تمہارے پائوں کے نیچے ہوگی وہ بھی تحت کہلائے گی۔سریا سَرِ یًّا سَرٰی سے ہے جس کے معنے چلنے والی چیز کے ہیں لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ سَرِیًّا سَرْوٌ سے ہے جس کے معنے بلندی شان اور عظمت کےہیں۔ھز ھَزَّ کے معنے زور سے ہلانے کے ہوتے ہیں۔(لسان) تفسیر۔فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ سے مفسرین کا ذہن پائوں کے نیچے والے معنوں کی طرف چلا گیا ہے(روح المعانی)۔وہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسٰی چونکہ نیچے تھے اس لئے انہوں نے یہ آواز دی۔مگر بعض نے کہا ہے کہ ا س سے مراد حضرت مسیح ؑ نہیں بلکہ فرشتہ ہے جس نے پائوں کی طرف سے کلام کیا(درمنثور)۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس جگہ مراد فرشتہ ہی ہے۔مگر یہ بالکل احمقانہ خیال ہے کہ فرشتہ نے جسم کے نیچےسے بات کیتَحْتِهَاۤسے مراد نشیب ہے کیونکہ جس جگہ پر اُن کے ہاں بچہ پیدا ہوا اُس کے پاس نشیب تھا اور نشیب کے نیچے چشمہ تھا۔بائبل کی روایت سے پتہ لگتا ہے کہ بچہ بیت لحم میں پیدا ہوا۔اور بیت لحم ایک پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے جو سمندر سے ۲۳۵۰ فٹ اونچی ہے۔اس کے ارد گرد سبز وادیاں ہیں جو سارے یہود اہ سے زیادہ سر سبز ہیں۔اس پہاڑی کے اندر دو تین چشمے ہیں جن کو چشمئہ سلیمان کہتے ہیں اور یہیں سے شہر میں پانی لایا جاتا ہے گویا شہر میںپانی نہیں بلکہ تالاب سلیمان سے نالیوں کے ذریعہ پانی لایا جا تا ہے۔مگر شہر سے جنوب مشرق کی طرف آٹھ سو گز یعنی نصف میل پر اور وہ بھی نیچے