تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 216
خیال ہمارے مفسرین کے ذہنوں پر غالب رہا۔اور انہوں نے سایہ کی بجائے سہارا لینے کا ذکر کر دیا۔اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ درد میں سہارے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔چنانچہ جب شدید دردِزہ ہورہا ہو تو اُس وقت ہوشیار عورتیں اپنا ہاتھ زچہ کو پکڑا دیتی ہیں اور اُسے کہتی ہیں کہ ہمارے ہاتھ کو زور سے دبائو۔وہ زور سے دباتی ہے تو اُسے درد میں ایک قسم کا سہارا مل جاتا ہے اور بچہ آسانی سے پیدا ہوجاتا ہے پس اتنی بات تو درست ہے کہ درد میں سہارے کی ضرورت ہوتی ہو لیکن میرے نزدیک اس آیت کے متعلق مفسرین کی یہ توجیہہ درست نہیں۔قَالَتْ يٰلَيْتَنِيْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْيًا مَّنْسِيًّا بعض لوگوں نے اس کے یہ معنے کئے ہیں چونکہ بچہ جو پیدا ہونےوالا تھا بغیر باپ کے تھا اس لئے وہ گھبرائیں اور انہوں نے کہا کہ ہا ئے اب میں کیا کروںگی اور لوگوں کو کیا جواب دوںگی (تفسیر ابن کثیر زیر آیت ھذا)۔لیکن میرے نزدیک یہ درست نہیں تجربہ کا ر لوگ جانتے ہیں کہ پہلا بچہ ہمیشہ اتنی تکلیف کے ساتھ ہوتا ہے کہ عورت بے اختیار ہوکر کہتی ہے کہ ہائے میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی۔میں نے اپنے خاندان میں اپنی بیویوں اور بچیوں کو بھی دیکھا ہے۔اُن میں سے ہر ایک اپنے پہلے بچہ کی ولادت پر یہی کہتی تھی ہائے میں اس سے پہلے مر جاتی۔اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ واقعہ بھی اپنی ذات میں غیر معمولی تھا کہ ایک کنواری کے ہاں لڑکا پیدا ہوا۔مگر عام طور پر پہلوٹھے بچوں کی پیدائش کی تکلیف پر لڑکیا ں اسی طرح کہا کرتی ہیں۔پس اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔لیکن اس کے ساتھ ہی میں سمجھتا ہوں کہ شاید اس میں مخفی طور پر اُس حدیث کی تردید کی طرف بھی اشارہ ہو جس میں یہ ذکر آتا ہے کہ ہر بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو شیطان اُسے چھوتا ہے جس کی وجہ سے وہ رونے لگتا ہے لیکن مسیح جب پیدا ہو اتو شیطان نے اُسے نہیں چھوا (بخاری کتاب التفسیر سورۃ آل عمران باب منہ آیات محکمات)۔پیدائش پر بچہ اس لئے روتا ہے کہ راستہ تنگ ہوتا ہے اور وہ نہایت تکلیف کے ساتھ رحم مادر میں سے باہر آتا ہے اُدھر عورت چیختی ہے کیونکہ اُس کی ہڈیاں ٹوٹتی ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے یہ بتا کر کہ حضرت مریم کو اچھی خاصی درد ہوئی اس طرف بھی اشارہ کردیاہے کہ جب مریم کو اتنی درد ہوئی تو تم سمجھ سکتے ہو کہ عیسٰی کو بھی ضرور درد ہوئی ہوگی اور وہ بھی تکلیف سے چیخا چلایا ہو گا۔