تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 218
ڈھلوان کی طرف چشمہ ہے (قاموس کتاب المقدس ترجمہ وتالیف ڈاکٹر جارج ای پوسٹ ایم ڈی۔تحت بیت لحم)پس فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ سے یہ مراد ہے کہ اُنہیں چشمہ کی طرف سے آواز آئی۔انسان آواز سے بھی اندازہ لگا لیتا ہے کہ جگہ کہاں ہے۔مثلاََ اگر ہمیں کوئی شخص بائیں طرف سے آواز دے تو ہم اُس آواز سے فوراً قیاس کرلیں گے کہ یہ آواز ہمیں بائیں طرف سے آئی ہے دائیں طرف سے نہیں آئی۔پس حضرت مریم کو جگہ بتانے کے لئے کہ تمہیں کہاں سے پانی ملے گا فرشتہ نے اُس نشیب سے اُنہیں آوازدی اور اس طرح بتایا کہ پہاڑی کا جو نشیب ہے یہاں سے تمہیں پانی مل جائے گا یہ مراد نہیں کہ وہ اُن کی کمر کے نیچے سے بولا۔جغرافیہ سے بھی ثابت ہے کہ وہاں چشمے پائے جاتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ بائبل بتاتی ہے حضرت مریم جب بیت لحم گئیں توانہیں ٹھہرنے کے لئے شہر میں جگہ نہیں ملی پس وہ شہر سے باہر جاکر رہیں۔اور بائبل بتاتی ہے کہ وہ اس جگہ رہیں جہاںگڈریے اپنے جانور چرایا کرتے تھے (انجیل لوقاب باب۲آیت ۸) اور گڈریے اپنے جانور ہمیشہ شہر سے کچھ فاصلے پر چرایا کرتے ہیں اسی وجہ سے لکھا ہے کہ جب بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اُسے کھلیان میں ڈالا پس شہر اور چشموں کے درمیان کسی جگہ پر جاکروہ ٹھہر گئیں۔شاید انہیں یہ بھی خیال ہو کہ اگرمیں شہرمیں رہی تو لوگ شور ڈالیں گے کہ یہ کس کا بچہ ہے اس لئے بہتر ہے کہ شہر سے کچھ فاصلہ پر جاکر رہوں چنانچہ انہوںنے شہر سے کچھ فاصلہ پر ڈیرہ لگادیا۔جہاں سے پانی نزدیک تھا مگر بوجہ اجنبی جگہ ہونے کے انہیں اس کاعلم نہیں تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ کے فرشتہ نے اُنہیں الہاماََ بتا دیا کہ اس طرف چشمہ بہ رہا ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت مسیح ؑ کو اس ذریعہ سے حضرت اسمعٰیل سے مشابہت دی گئی ہو۔حضرت اسمعٰیل علیہ السلام بھی جب مکہ میں چھوڑے گئے تو اُن کی والدہ کو اللہ تعالیٰ کے فرشتہ نے آوازدی تھی کہ جا ہم نے تیرے بیٹے کے پائوں تلے سے چشمہ پھوڑ دیا ہے۔بہر حال یہ خدا تعالیٰ کا ایک نشان تھا کہ اس نے حضرت مریم کی گھبراہٹ کے وقت انہیں بتا دیا کہ فلاں جگہ پانی ہے وہاں سے تم اپنی ضرورت پوری کرلو۔ہمارے مفسرین تَحْتَكِ سَرِيًّا کے یہ معنے کرتے ہیں کہ خدا نے تیرے نیچے ایک شاندار وجود بنایا ہے یعنی تیرا بچہ بڑی شان والا ہوگا (تفسیر کبیر لامام رازی)۔اور بعض نے کہا ہے کہ یہ لفظ حضرت مسیح ؑ کی شان کی بلندی اور اُن کی عظمت کے اظہار کے لئے بولا گیا ہے۔در حقیقت ہمارے مفسرین کو شوق ہے کہ وہ اُٹھتے بیٹھتے حضرت مسیح کی تعریف کرتے رہیں اور اُن کی شان کی بلندی کے قصے بیان کرتے پھریں۔اُن کے پیدا ہونے کا ذکر ہو تو کہتے ہیں کہ تمام دنیا میں سے صرف وہی مسِ شیطان سے پاک تھے اور موت کا ذکرہو توکہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اُن کو زندہ