تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 215

میں جگہ نہ ملی اور وہ کہیں باہر ٹھہرے۔وہیں حضرت مریم کو دردِزہ شروع ہو ا اور بچہ پیدا ہوگیا۔(انجیل لوقاباب ۲آیت ۷) بیت لحم یروشلم سے جنوب کی طرف پانچ میل کے فاصلہ پر ہے اور بہت زرخیز علاقہ ہے(تاریخ بائبل صفحہ ۴۸۴)۔ناصرہ سے بھی بیت لحم جنوب کی طرف ہے اور قریباََ سّتر میل دُور ہے۔پس مَكَانًا قَصِيًّا میں اسی سفر کی طرف اشارہ کیاگیا ہے جس کا انجیل میں ذکر آتا ہے۔کہ وہ ناصرہ سے بیت لحم گئیں۔فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ يٰلَيْتَنِيْ پس (جب وہ وہاں پہنچی)تو اُسے دردِزہ (اٹھی اور اُسے)مجبورکرکے ایک کھجور کے تنہ کی طرف لے گئی (جب مریم کو مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْيًا مَّنْسِيًّا۰۰۲۴ یقین ہو گیا کہ اُس کو ہا ں بچہ ہونیوالا ہے تو اس نے دنیا کی انگشت نمائی کا خیا ل کرکے)کہا اے کاش میں اس سے پہلے مرجاتی اور میری یاد مٹا دی جاتی۔حل لغات۔مَخَاضٌ کے معنے شدت کے ساتھ دردِزہ ہونے کے بھی ہیں(تاج ) اور مخاضپیدائش کے وقت کے قریب آجانے کو بھی کہتے ہیں (اقرب)۔اِس وقت کے قریب آجانے کی بڑی علامت بھی دردِزہ ہی ہوا کرتی ہے۔جِذْعٌ تنے کو بھی کہتے ہیں اور بڑی شاخ کوبھی کہتے ہیں۔تفسیر۔کھجور کے تنہ کی طرف انسان تبھی جاتا ہے جب وہ گھر میں نہ ہو۔اور جیسا کہ اوپر بتایا جاچکا ہے بائبل میں یہ ذکر آتا ہے کہ انہیں سرائے میں جگہ نہ ملی اور چونکہ وہ میدان میں ڈیرہ ڈالے پڑی تھیں۔معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ پر کوئی کھجور کا درخت ہو گا جس کے نیچے وہ اُس وقت آگئیں۔ہمارے مفسرین کہتے ہیں کہ وہ درد کا سہارا لینے کے لئے وہاں گئیں تھیں(مجمع البیان زیر آیت ھذا)۔لیکن درد کا سہارا لینے کی وجہ جیسا کہ میں آگے چل کر بتائوں گا میرے نزدیک عیسائی روایتوں سے ڈر کر بنائی گئی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہر درخت سایہ بھی دیتا ہے اور سہارا بھی دیتا ہے اور یہ دونوں باتیں ایک ہی وقت میں اس کے اندر پائی جاتی ہیں۔پھر انہوں نے سہارا کیوں کہا سایہ کیوں نہ کہا اس کی وجہ یہ ہے کہ عیسائی روایات سے مطابقت رکھنے کا