تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 214

سے ہم اُن پر الزام نہیں لگا سکتے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے جھوٹ بولا۔پس مسیح ؑ کی بن باپ ولادت کوئی قابل تعجب نہیں۔کیونکہ مسیح ؑ کی پیدائش کے علاوہ اس قسم کے اور بھی کئی واقعات تاریخوں میں ملتے ہیں۔فَحَمَلَتْهُ سے مراد وہی حمل ہے جو اس رؤیا کے نتیجہ میں ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃالسلام نے یہی بات تسلیم کی ہے چنانچہ ’’مواھب الرحمٰن ‘‘ میں آپ نے صاف طور پر لکھا ہے کہ یہ بات ہمارے عقائد میں داخل ہے کہ مسیح بن باپ پیدا ہوئے (مواھب الرحمٰن روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۲۹۵)اور آپ فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے لئے سوائے اِن دو صورتوں کے اور کوئی صورت ہی نہیں کہ یا تو ہم یہ کہیں کہ وہ خدا کے حکم کے ماتحت پیدا ہوئے تھے اور یا یہ کہیں کہ اُن کی ولادت نا جائز تھی۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام نے اپنا عقیدہ یہی بیا ن فرمایا ہے کہ مسیح بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور یہی ہمارا عقیدہ ہے۔میں نے زیادہ زور اس پر اس لئے دیا ہے مولوی محمد علی صاحب امیر غیر مبایعین نے لکھا ہے کہ مسیح کا باپ تھا (بیان القرآن زیر آیت ھذا)اور اُس کا نا م یوسف تھا حالانکہ جیسا کہ میںبتا چکا ہوں انجیل کے رُو سے بھی یوسف نے اُس وقت تک مریم کے ساتھ تعلقات نہیں رکھے جب تک کہ مسیح پیدا نہیں ہوگئے۔فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِيًّا اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حمل کے ایام میں ایک وقت حضرت مریم پر ایسا بھی آیا جب انہیں کہیں دور جانا پڑا۔اس کے متعلق جب ہم بائبل پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں وہاں سے کچھ تفصیل ملتی ہے۔وہ تفصیل یقیناًایسی ہے کہ اگر اُس میں غلط بیانی کی کوئی وجہ ثابت نہ ہو تو اُسے تسلیم کیا جاسکتا ہے۔لوقا باب ۲میں لکھا ہے کہ ـــ’’اُن دنوں میں ایسا ہوا کہ قیصر اگسطس کی طرف سے یہ حکم جاری ہو اکہ ساری دنیا کے لوگوں کے نام لکھے جائیں۔یہ پہلی اسم نویسی سوریہ کے حاکم کورینس کے عہد میں ہوئی اور سب لوگ نام لکھوانے کے لئے اپنے اپنے شہر کو گئے پس یوسف بھی گلیل کے شہر ناصرہ سے دائود کے شہر بیت لحم کو گیا جو یہودیہ میں ہے اس لئے کہ وہ دائود کے گھرانے اور اولاد سے تھا تاکہ اپنی منگیتر مریم کے ساتھ جو حاملہ تھی نام لکھوائے۔‘‘ (انجیل لوقاب باب ۲ آیت اتا ۵) انجیل کے اس بیان سے ظاہر ہے کہ چونکہ قیصر اگسطس نے حکم دیا تھا کہ تمام شہرو ں اور گائوں کے لوگوں کے نام لکھے جائیں۔اس لئے یوسف بھی جو حضرت مریم کے شوہر تھے ناصرہ سے بیت لحم گئے۔کیونکہ وہ دائود کی نسل میں سے تھے۔اور بیت لحم اُس وقت قبیلہ دائود کا ایک بہت بڑا شہر تھا۔اس سفر میں حضرت مریم بھی اُن کے ساتھ تھیں۔مگر آگے لکھا ہے کہ چونکہ بیت لحم میں بہت سے لوگ اپنے نام لکھوانے کے لئے آئے ہوئے تھے اس لئے انہیں سرائے