تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 206

اس جگہ غلام سے مراد بچہ ہی ہے بڑی عمر کا انسان مراد نہیں۔یوں تو بڑی عمر کا آدمی بھی عربی زبان کے لحاظ سے غلام کہلاتا ہے لیکن یہ چونکہ مریم کا کلام ہے اور ان کے لئے حیرت کی بات بچہ پیدا ہونا ہی تھا اس لئے اس جگہ غلام کے معنے بچہ ہی کے لئے جائیں گے۔بہرحال حضرت مریم کو تعجب پیدا ہوا کہ میرے ہاں کس طرح بچہ پیدا ہو سکتا ہے جبکہ مجھے نہ توکسی مرد نے چھوا ہے اور نہ میں باغیہ ہوں۔اگر حضرت مریم کے اس استعجاب کو ظاہری حالات محمول کیاجائے اور خواب میں بھی ان کے وہی حواس سمجھے جائیں جو جاگتے ہوئے ہوتے ہیں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ چونکہ ظاہر میں ایسی بات ناممکن ہوتی ہے اس لئے رویا میں بھی انہوں نے وہی بات کہہ دی جو ظاہر میں کہی جاتی ہے۔خواب میں دونوں قسم کی کیفیات انسان پر وارد ہوتی ہیں۔کبھی صرف نظارہ اور کلام تاثیر رؤیا کے نیچے ہوتا ہے دلی جذبات تاثیر رؤیاکے نیچے نہیں ہوتے۔کبھی انسان دیکھتا ہے کہ بیٹا مارا گیا ہے اور وہ بڑا خوش ہے۔حالانکہ بیٹے کے مرنے پر انسان کو خوشی نہیں ہو سکتی وہ ضرورروتا اور غمزدہ ہوتا ہے۔پس جب رؤیا میں وہ بیٹے کے مرنے پر خوش ہوتا ہے۔تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ رؤیا میں اس کے جذبات بھی تاثیر رؤیا کے نیچے تھے۔ورنہ بیٹے کے مارے جانے پر اسے رونا چاہیے تھا۔اگر وہ خوش ہوتا ہے تو معلوم ہوا کہ اس کے قلب کی کیفیت بھی رئویا کے ماتحت تھی۔لیکن بعض دفعہ دیکھے گا کہ بیٹا مارا گیا ہے اور میں رو رہا ہوں۔اب جہاں تک بیٹے کے مارے جانے کا سوال ہے۔اس کی تعبیر تو یہ ہو گی کہ اس کا بیٹا نیک ہو گا اور دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دے گااور اس تعبیر پر اسے خوش ہونا چاہیے۔مگر چونکہ اس نے دیکھا کہ وہ رو رہا ہے اس لئے ہم یہ کہیں گے کہ اس کا رونا رؤیا کی تعبیر کے نیچے نہ تھا بلکہ ظاہری کیفیات کے تابع تھا۔غرض کبھی تاثیر قلبی رؤیا کے نظارہ کے ماتحت ہوتی ہے۔اور کبھی رؤیا کے نظارہ کے ماتحت نہیں ہوتی۔ایک شخص خواب میں گنّا دیکھتا ہے اور بڑا خوش ہوتا ہے۔حالانکہ گنے کی تعبیر غم ہے۔پس خواب میں اس کا خوش ہونا بتاتا ہے کہ اس وقت تعبیر اس پر اثر نہیں کر رہی تھی بلکہ ظاہری حالات اثر کر رہے تھے۔چونکہ ظاہر میں انسان گنّا ملنے پر خوش ہوتا ہے اس لئے خواب میںبھی وہ خوش ہو گیا۔اور اگر وہ گنّا ملنے پر رو رہا ہے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ اس وقت اس کے دل کی کیفیت بھی رؤیا کی تعبیر کے نیچے تھی۔یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کو صر ف علم تعبیر الرؤیا جاننے والے ہی سمجھ سکتے ہیں دوسرے لوگ نہیں۔پس اگر اس قول سے حضرت مریم کی تعبیر ظاہری مراد لی جائے تو اس سے صرف اتنا نکلے گا کہ چونکہ ظاہر میں ایسی باتیں بری سمجھی جاتی ہیں۔اس لئے جب اس نے یہ بات کہی تو حضرت مریم نے کہا۔ہائے ہائے تم کیسی باتیںکر رہے ہو کبھی مردوں کے بغیر بھی بچہ پیدا ہو ا ہے۔اور اگر یہ الفاظ بھی تاثیر رؤیا کے ماتحت سمجھے جائیں تو اس