تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 205
وہ یہ کہتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے صرف ایک پیغامبر کے طور پر بھجوایا گیا ہوں۔لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِيًّا۔اَھَبَ کے متعلق بھی خیال ہو سکتا ہے کہ شاید اس کے معنے دینے کے ہوں اور مراد یہ ہو کہ وہ تعلقات رکھے لیکن یہ بھی درست نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم کا یہ طریق ہے کہ جو چیز یقینی اور قطعی ہو۔وہ ایسے الفاظ میں میںبیان کرتا ہے جن میں شبہ کی کوئی گنجائش نہ ہو مثلاً مستقبل کی خبر بیان کی جاتی ہے تو اسے ماضی کے صیغہ میں بیان کیا جاتا ہے یہ بتانے کے لئے کہ تم اس بات کو ایسا ہی سمجھو جیسا کہ یہ ہو چکی ہے۔اسی طرح اس پیشگوئی پر زور دینے کے لئے کہ یہ پیشگوئی ضرور پوری ہو گی اس نے اَھَبَ کہا جس کے معنے یہ ہیں کہ میں دینے آیا ہوں۔یعنی اس بات کوایسا ہی سمجھو کہ گویا بیٹا مل گیا ہے۔ورنہ سب جانتے ہیں کہ لڑکا خدا دیا کرتا ہے فرشتہ نہیں دیا کرتا۔پس اَھَبَ لَکَ سے مراد صرف لڑکے کی خبر ہے نہ کہ لڑکا دینا۔خدائی خبر چونکہ یقینی ہوتی ہے اس لئے اسے گویا چیز کے مل جانے کے برابر ظاہر کیا اور اس نے کہا کہ میں خدائی وحی کے مطابق تجھ کو ایک پاک لڑکا دینے آیا ہوں یعنی میں اس لئے آیا ہوں کہ تجھ کو ایک پاک لڑکے کے پیدا ہونے کی خبر دوں اور یہ کشف قطعی اور یقینی ہے۔اسے ایسا ہی سمجھو جیسا کہ لڑکا مل گیا ہے۔قَالَتْ اَنّٰى يَكُوْنُ لِيْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ يَمْسَسْنِيْ بَشَرٌ (مریم نے )کہا میرے ہاں لڑکا کہاں سے ہو گا حالانکہ اب تک مجھے کسی مرد نے نہیں چھوا اور میںکبھی بدکاری میں وَّ لَمْ اَكُ بَغِيًّا۰۰۲۰ مبتلا نہیںہوئی۔حل لغات۔بَغِیُّ کے معنے ہوتے ہیں جو تجاوز عن الاقتصاد کرے۔یہ تجاوز اچھا بھی ہو سکتا ہے اور برا بھی۔انسان عدل سے احسان کی طرف جائے گا تو اچھا ہو گا۔اور حق سے باطل کی طرف تجاوز کرے گا تو برا ہو گا۔