تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 199
فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَيْهَا رُوْحَنَا اور( اپنے اور ) ان (یعنی رشتہ داروں)کے درمیان پردہ ڈال دیا (یعنی ان سے تعلق قطع کرکے اپنے آپ کو چھپا دیا) فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا۰۰۱۸ اس وقت ہم نے اس کی طرف اپنا کلام لانے والا فرشتہ(یعنی جبرئیل) بھیجا اور وہ اس کے سامنے ایک تندرست بشر کی شکل میں ظاہر ہوا۔حل لغات۔رُوْحٌ کے معنے اس چیز کے ہیں جس سے حیات نفس قائم ہے اور روح کے معنے نبوت کے بھی ہیں اور روح کے معنے جبریل کے بھی ہیں اور روح کے معنے وحی کے بھی ہیں نبوت کو روح اس لئے کہتے ہیں کہ وہ بھی انسان کو ایک نئی روحانی زندگی بخشتی ہے اور جبریل کو بھی اسی لئے روح کہتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سےایسا کلام لاتا ہے جو زندگی بخش ہوتا ہے۔اسی طرح وحی کو بھی اسی لئے روح کہتے ہیں کہ وہ ایمان کو تازہ کرتی ہے غرض یہ ساری چیزیں روح کہلاتی ہیں۔تفسیر۔فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا کا یہ مطلب ہے کہ انہوں نے دعا میں خلوت کے حصول کے لئے پردہ کھینچ لیا۔موجودہ زمانہ میں مکانوں کے اندر دروازے بنائے جاتے ہیںجو آسانی کے ساتھ بندکر لئے جاتے ہیں لیکن اس زمانہ میں دروازوں کا رواج نہیں تھا صرف پردے کھینچ لئے جاتے تھے بلکہ بنو عباس کے زمانہ تک شاہی محلات کے اندر دروازے نہیں ہوتے تھے۔شاہان مغلیہ کی عمارتوں سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تخلیہ کے لئے پردے ڈال لیا کرتے تھے۔پس فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کوئی ایسی بات کرنے کے لئے علیحدہ ہوئیں جس میں حجاب کی ضرورت تھی۔بلکہ چونکہ وہ دعا اور عبادت کے لئے علیحدہ ہوئی تھی اور اس کے لئے تخلیہ کی ضرورت تھی انہوں نے پردہ کھینچ لیا تاکہ لوگ ان کونہ دیکھیںاور وہ علیحدگی میں اللہ تعالیٰ سے دعائیں کر سکیں۔حضرت زکریاعلیہ السلام بھی عبادت گاہ میں تھے جب انہیں الہام ہوا۔اسی طرح حضرت مریم بھی عبادت گاہ میں ہی تھیں جب انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ملی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب وہ تخلیہ میں گئیں اور دعا میں مشغول ہو گئیں تو اَرْسَلْنَاۤ اِلَيْهَا رُوْحَنَا ہم نے اپنا فرشتہ ان کی طرف بھیجا۔فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا۔اور وہ ان کے لئے ایک مثالی جسم بن گیاجیسے خواب میں اگر کوئی شخص دیکھے کہ اس نے بکرا ذبح کیا ہے تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ