تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 200

اس کا کوئی بیٹا یا بیٹی یا کوئی اور قریبی رشتہ دار فوت ہو جائے گا۔یا خواب میں چوہا دیکھے تو اس سے مراد کوئی منافق ہو گا یا خواب میں دیکھے کہ میرے گھر میں چور آیا ہے تو اس سے مراد داماد ہو گا۔اب تعبیر بظاہر بالکل بے جوڑ نظر آتی ہے۔لیکن ہرشخص جانتا ہے کہ ایسا ہی ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تصویری زبان میں یہ واقعات اس کے سامنے پیش کرتا ہے۔یہاں بھی اسی مثالی وجود کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا کہ فَتَمَثَّلَ لَهَا اس نے ان کے لئے ایک تمثیلی شکل اختیار کر لی۔بَشَرًا سَوِيًّا ایک ایسے انسان کی صورت جو تندرست تھا۔گویا اس وقت حضرت مریم پرجو کلام نازل ہوا ان الفاظ میں اس کی کیفیت بتائی گئی ہے کہ وہ کس رنگ میں نازل ہوا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ آپ پر وحی کس طرح نازل ہوتی ہے تو آپ نے فرمایاکبھی تو وہ گھنٹی کی آواز کی طرح نازل ہوتی ہے یعنی یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک گھنٹی بجی ہے اور اس کے بعد کلام الٰہی نازل ہونے لگتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا کوئی فرشتہ آتا ہے اور وہ مجھ سے بات کرتا ہے اور کبھی وہ کوئی دوسری شکل اختیار کر لیتا ہے۔یہاں بھی اسی مضمون کو بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا کہ وہ وحی ایسی نہیں تھی جو مریم کے کا ن پر پڑی یا اس کی زبان پر جاری ہوئی۔بلکہ وہ ایک خواب یا کشف کی شکل میں ظاہر ہوئی۔انہوں نے کشف میں دیکھا کہ ایک فرشتہ سامنے آیا ہے جو ایک تندرست انسان کی شکل میں ہے اور اس فرشتہ نے انہیں خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچایا ہے۔درحقیقت اگر ہم گہرا غور کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہی ہے جو نزول کے وقت مختلف شکلیں اختیار لیتا ہے اور کبھی وہ کسی شکل میں نازل ہو جاتا ہے اور کبھی کسی شکل میں۔حضرت مریم پر جب کلام الٰہی نازل ہوا تو اس کلام نے اس وقت ایک انسان کی شکل اختیار کر لی۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ جبریل تھا جو ان کے سامنے ظاہر ہوا۔حالانکہ اگر اسے جبریل کہو تب بھی حقیقت تو وہی ہے جو میں نے بتائی ہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام ہی مختلف شکلیں اختیار کرتا ہے مثلاً اگر کوئی شخص خواب میں بینگن دیکھتا ہے تو اس کے معنے یہ ہوںگے کہ کلام نے بینگن کی شکل اختیار کر لی۔یا اگر کوئی شخص فرشتہ دیکھتا ہے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ کلام الٰہی نے اس وقت فرشتہ کی شکل اختیار کر لی۔بہرحال خدا تعالیٰ کا کلام نزول کے وقت مختلف رنگ اختیار کر لیتا ہے۔میں ابھی چھوٹا بچہ تھا کہ میں نے رؤیا میں دیکھا کہ جس طرح کٹورہ بجائیں تو اس میں سے ٹن کی آواز نکلتی ہے۔اسی طرح کسی نے کٹورہ بجایا ہے اور اس میں سے ٹن کی آواز پیدا ہوئی ہے۔پھر میں نے دیکھا کہ وہ آواز پھیلنی شروع ہوئی اور پھیلتی چلی گئی۔جس طرح دریا میں پتھر پھینکا جائے تو اس کے بعد پانی میں ایک دائرہ سا بن جاتا ہے جو پھیلتا چلا جاتا ہے اسی طرح وہ آواز جَوّ میں پھیلنی شروع ہوئی اور آخر پھیلتے پھیلتے جَوّ کے عین وسط میں ایک خالی