تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 198

ایک ستارہ کے نکلنے کی خبر تھی اور یہودی روایات میں یہ بات پائی جاتی تھی کہ وہ ستارہ مشرق سے نکلے گا۔اس لئے پورب سے جو لوگ آئے انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک ستارہ مشرق میں دیکھاہے جس سے ہم سمجھتے ہیں کہ وہ نبی جس کے آنے کی پیشگوئی کی گئی تھی پیدا ہو گیا ہے۔مکاشفات باب ۷ آیت ۲میں لکھا ہے ’’پھر میں نے ایک اورفرشتے کو پورب سے اٹھتے دیکھا جس کے پاس زندہ خدا کی مہر تھی۔‘‘ مکاشفات بے شک مسیح کے بعد کی کتاب ہے لیکن میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہود اور نصاریٰ میں مشرق کا خاص احترام تھا اور وہ عبادت گاہوں کے دروازے مشرق کی طرف بناتے تھے بلکہ بعض مشرق کی طرف منہ کرکے عبادت بھی کرتے تھے۔اس وجہ سے اس آیت کا یہ مفہوم ہے کہ مریم ایک عبادت گاہ میں جس کا منہ مشرق کی طرف تھا تاکہ جنت اولیٰ اور بشارت عظیمہ سامنے رہیںعبادت کے لئے گئیں۔یادرکھنا چاہیے کہ عیسائیوں کے عبادت گاہ اور مسلمانوں کی عبادت گاہ میں فرق ہوتا ہے۔عیسائیوں کی عبادت گاہ میں جدھرامام کا منہ ہوتا ہے اسی طرف مقتدیوں کا منہ نہیں ہوتا بلکہ ان دونوں کے منہ آمنے سامنے ہوتے ہیں۔ہمارے ہاں تو امام بھی قبلہ رو کھڑا ہوتا ہے اور مقتدیوں کا منہ بھی قبلہ رخ ہوتا ہے۔مگر ان میں عبادت گاہ کا دروازہ مشرق کی طرف ہو گا۔امام اور مقتدی سب اس دروازہ سے داخل ہوں گے مگر اندر داخل ہوکر امام اپنا منہ مشرق کی طرف کر لے گا اور مقتدی اپنا منہ مغرب کی طرف کر لیں گے یا یوں کہو کہ مقتدیوں کا منہ امام کی طرف ہو گا اور امام کا منہ مقتدیوں کی طرف ہو گا۔غرض عیسائی اپنی عبادت گاہوں کا دروازہ مشر ق کی طرف بناتے ہیں بلکہ بعض فرقوں کے متعلق یہ ثابت ہے کہ وہ عبادت بھی مشرق کی طرف ہی منہ کرکے کرتے ہیں۔میں یہ تحقیق نہیں کر سکا کہ آیا سارے ایسا کرتے ہیں یا صرف بعض فرقے ایسا کرتے ہیں۔بہرحال بعض فرقوں کے متعلق میں یقینی طور پر کہہ سکتا ہوں کہ وہ مشرق کی طرف منہ کرکے عبادت کرتے ہیں۔پس مَکَانًا شَرْقِیًّا کے معنے یہ ہوئے کہ وہ مکان جس کا منہ مشرق کی طرف تھا۔معلوم ہوتا ہے جب حضرت مریم جوان ہوئیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں دعا کا جوش پیدا کیا اور وہ گھر سے نکلیں اور ایک عبادت گاہ میں گئیںوہ عبادت گاہ ایسی تھی جس کا منہ مشرق کی طرف تھا اس یادگار میں کہ جنت اور انسانی ابتداء کا تعلق مشرق سے ہے۔