تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 193
دودھ پیا۔اب کم از کم اس موقعہ پر ہی مسیح اس عورت کی تعریف کو پی جاتے اور کچھ نہ کہتے۔مگر مسیح سے اتنی بات بھی برداشت نہ ہو سکی اور انہوں نے کہا ’’ہاں مبارک ہیں وہ جو خدا کا کلام سنتے ہیںاور اسے مانتے ہیں۔‘‘ (انجیل لوقا باب ۱۱آیت ۲۷و ۲۸) یعنی وہ ماں کوئی مبارک نہیں جس کے پیٹ میں رہا۔وہ ماں کوئی مبارک نہیں جس کی چھاتیوں سے میں نے دودھ پیا۔بلکہ مبارک وہ ہیں جو خدا کا کلام سنتے اور اسے مانتے ہیں جس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ مریم نے نہ خدا کا کلام سنا اور نہ اسے مانا۔غرض دوسرے کے منہ سے بھی وہ ان کی تعریف نہیں سن سکتے تھے اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ ان کے دشمن جانی تھے اور وہ انہیں مومن نہیں سمجھتے تھے۔لیکن قرآن خود مسیح ؑ کے منہ سے کہلواتا ہے کہ بَرًّۢا بِوَالِدَتِيْ (مریم :۳۲) میں تو اپنی ماں کا بڑا فرمانبردار ہوں۔میں اس سے بڑی محبت اور پیار کرنے والا ہوں۔اب خود ہی دیکھ لو کہ ان دونوں میں سے کونسی تاریخ سچی ہو گی۔ایک طرف بائبل کہتی ہے کہ فرشتہ نے مریم سے کہا کہ ’’خدا کی طرف سے تجھ پرفضل ہوا ہے اور دیکھ تو حاملہ ہو گی اور تیرے بیٹاہو گا۔اس کا نام یسوع رکھنا وہ بزرگ ہو گا خدا تعالیٰ کا بیٹا کہلائے گا۔‘‘(انجیل لوقا باب ۱آیت ۳۰و ۳۱) مگر باوجود اس کے کہ فرشتہ اسے ایک ایسی خبر دے گیا تھا جوظاہری حالات کے لحاظ سے قطعی طور پر ناممکن نظر آتی تھی۔اور پھر خدا نے اس ناممکن کو ممکن بنا کر دکھا دیا پھر بھی یہ عظیم الشان نشان دیکھنے کے باوجود وہ بائبل کے مطابق مسیح کو پاگل سمجھتی رہی اور اس پر ایمان نہ لائی۔یوں اگرکسی کو بچہ کے متعلق خواب آ جائے اور پھر اس کے ہاں بچہ پیدا بھی ہوجائے تو بے شک یہ ایک نشان تو ہو گا مگر اتنا بڑا نہیں ہو گا جتنا یہ معجزہ تھا۔اگر کسی عورت کو ایسی خواب آ جائے اور پھر اس کے ہاں بچہ پیدا ہو جائے اور وہ نیک بھی بن جائے تب بھی ممکن ہے کہ ماں کسی وقت ناراض ہو کر اسے کہہ دے کہ تو نے میرا کوئی حق ادا نہیں کیا۔لیکن یہاں کوئی معمولی نشان نہیں دکھایا جاتا۔یہاں ایک کنواری حاملہ ہوتی ہے۔فرشتہ اس کے پاس آتا ہے اور اسے خبر دیتا ہے کہ تیرے ہاں بچہ ہو گا اور وہ اپنے اندر یہ یہ صفات رکھے گا۔اور پھر واقعہ میں اسے حمل ہوجاتا ہے اور اس کے ہاں بچہ پیدا ہو جاتا ہے اور وہ دنیا میںغیر معمولی عزت اور شہرت حاصل کرتا ہے۔کیا دنیا کی کوئی بھی عقل تسلیم کر سکتی ہے کہ اتنے عظیم الشان واقعہ کے بعد بھی وہ عورت اپنے بچہ کو پاگل کہے گی یا اس کے دعویٰ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دے گی۔جس نے خدا تعالیٰ کی قدرت کا اتنا عظیم الشان