تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 194

نشان دیکھا ہو اس کے لئے تو انکار کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی پس انجیل کا یہ بیان کہ وہ اپنی ماں کا نافرمان تھا عقلی لحاظ سے بھی بالکل ناقابل تسلیم ہے۔مگر قرآن خود مسیح کی زبان سے یہ کہلواتا ہے کہ بَرًّۢا بِوَالِدَتِيْ میں تو اپنی والدہ سے نہایت ہی حسن سلوک کرنے والا ہوں۔پھربائبل کہتی ہے کہ مریم کافرہ تھی مگر قرآن کہتاہے کہ فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا (آل عمران :۳۸) یعنی خدا نے مریم کی والدہ کی دعا کو قبول فرمایا اور وہ نیکیوں پر پختہ ہو گئی اور خدا تعالیٰ نے اسے غیر معمولی ترقی اور عظمت بخشی۔پس قرآن اسے مومن اور اعلیٰ درجہ کی نیکیوں کی حامل قرار دیتا ہے لیکن انجیل جو اسے خدا کی ماں قرار دیتی ہے وہ اسے کافرہ اور بے ایمان ٹھہراتی ہے۔پھر فرماتا ہے اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِيْنَ (آل عمران:۴۳) یعنی اے مریم اللہ تعالیٰ نے تجھ کو بزرگ بنایا ہے اللہ تعالیٰ نے تجھے پاک کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے تجھے اس زمانہ کی ساری عورتوں پر فضیلت بخشی ہے غرض قرآن وہ بات کہتا ہے جو فطرت کہتی ہے اور انجیل وہ بات کہتی ہے جس کا فطرت انکار کرتی ہے۔اتنے بڑے نشان کے بعد یہ ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ مریم انکار کرے۔پس صحیح بات وہی ہے جس کا قرآن نے ذکر کیا ہے۔دشمن کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو واقعات کا صحیح علم نہیں تھا انہوں نے غلط باتیں اس میں درج کر دیں۔ہم ان سے کہتے ہیں اے احمقو! تم صحیح لکھنے والوں کو اس قرآن کے سامنے لائو۔وہ جس کے متعلق تم کہتے ہو کہ اسے پتہ نہیں تا وہ تو سچی باتیں بتاتاہے اور جن کے متعلق تم کہتے ہو کہ انہیں سب کچھ پتہ تھا وہ جھوٹی باتیں بتاتے ہیں۔کیا یہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا عظیم الشان ثبوت نہیں؟ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے اِصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِيْنَ کہہ کر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ انجیل میں کئی مریموں کا نام آتا ہے جن کی نیکی اور تقدس کی بڑی تعریف کی گئی ہے لیکن وہ مریم جو ماں تھی مسیح کی اسی کو عیسائیوں نے مسیح کا دشمن اور مخالف ظاہر کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم مریم مگدلینی اور دوسری عورتوں کو امّ عیسیٰ پر فضیلت دیتے ہو۔حالانکہ تم جن مریموں کو لئے بیٹھے ہو وہ اس مریم کے مقابلہ میں کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتی تھیں۔سب سے بہتر اور سب سے مقدس وہی مریم تھی جو عیسیٰ کی ماں تھی۔پھر فرماتا ہے يٰمَرْيَمُ اقْنُتِيْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِيْ وَ ارْكَعِيْ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ (آل عمران :۴۴) رَاکِعٌ اس شخص کو کہتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایمان خالص عطا کر دیاجائے۔پس يٰمَرْيَمُ اقْنُتِيْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِيْ وَ ارْكَعِيْ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ کے یہ معنے ہیں کہ اے مریم اپنے رب کی فرمانبردار رہو۔اس کی عبادت بجا