تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 192
’’نبی اپنے وطن اور گھر کے سوا اور کہیں بے عزت نہیں ہے۔‘‘(متی باب۱۳آیت ۵۵تا ۵۷) یعنی میں اپنے وطن میں بھی بے عزت ہوں اور اپنے گھر میں بھی بے عزت ہوں۔مگر میری یہ بے عزتی اس بات کی دلیل نہیں کہ میں جھوٹا ہوں کیونکہ نبیوں کے گھر والے ہمیشہ ان کے مخالف ہوا کرتے ہیں۔پھر یہیں تک بس نہیں۔مرقس باب۳سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح کے عزیز اور رشتہ دار اسے پاگل سمجھا کرتے تھے۔چنانچہ لکھا ہے۔’’جب اس کے عزیزوں نے یہ سنا تو اسے پکڑنے کو نکلے کیونکہ کہتے تھے وہ بے خود ہے۔‘‘ (انجیل مرقس باب ۳آیت ۲۱) گویا بجائے اس کے کہ وہ اس پر ایمان لاتے وہ اسے دیوانہ اور مجنون سمجھتے تھے اور چاہتے تھے کہ اسے پکڑ کر رکھیں تاکہ وہ ادھراُدھر نہ پھرے۔ان واقعات سے صاف ظاہر ہے کہ انجیل کے نزدیک مریم اور ان کی دوسری اولاد اور یوسف جو باپ کہلاتا تھا مسیح ؑ پر ایمان نہیں لائے اور مسیح ؑ ان سے تُرش روئی سے پیش آتا تھا۔حتیٰ کہ بائبل کے رو سے عین صلیب کے وقت بھی مسیح ؑنے اپنی ماں کی طرف توجہ نہیں کی۔ماں کے دل میں درد تھا اور وہ صلیب کے وقت وہاں پہنچی۔مگر بائبل بتاتی ہے کہ اس وقت بھی مسیح ؑنے اپنی ماں سے محبت کے ساتھ بات نہیں کی۔بلکہ اسے جب کھڑا دیکھا تو تھوما سے مخاطب ہو کر کہا کہ یہ تیری ماںہے اور مریم سے کہا اے عورت یہ ہے تیرا بیٹا۔(انجیل یوحنا باب ۱۹آیت ۲۶و۲۷) گویا اس وقت بھی انجیل کی رو سے مسیح کے دل میں مریم کی نسبت اتنا بغض تھا کہ بجائے یہ کہنے کے کہ اے ماں یا اے مریم مسیح نے اس وقت بھی یہ کہا کہ اے عورت یہ ہے تیرا بیٹا۔اس طرح انہوں نے اپنا اخلاقی فرض تو ادا کر دیا اور ماں کو اس کا ٹھکانہ بتا دیا اور تھوما سے بھی کہہ دیا کہ اس کی اپنی ماں کی طرح خدمت کرنا لیکن اس وقت بھی ان کے جذبات انجیل کی رو سے اتنے زخمی تھے کہ بجائے اس کے کہ ایسے خطرناک موقعہ پر جبکہ انہیں صلیب پر لٹکایا جا رہا تھا وہ اپنی محبت کا اظہار کرتے۔انہوں نے اس وقت بھی ماں کا لفظ نہیں بولا بلکہ اسے اے عورت کہہ کر مخاطب کیا۔پھر انجیل کے بیان کے مطابق اس کی اپنی ماں سے بے رخی اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ ایک دفعہ ایک عورت نے اس کے لیکچر سے متاثر ہو کر کہا کہ ’’مبارک ہے وہ پیٹ جس میں تُو رہا اور وہ چھاتیاں جو تُونے چوسیں۔‘‘ یعنی کیا ہی وہ اچھی عورت تھی جس کے پیٹ میں تُو رہا۔اور کیا ہی وہ اچھی عورت تھی جس کی چھاتیوں سے تو نے