تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 177

جس طرح اٰتَيْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا میں اس طرف اشارہ کیا گیا تھا کہ اگر مسیح ؑکی عظمت کے تم اس وجہ سے قائل ہوکہ وہ بچپن میں ہی اپنے دشمنوں پر بھاری تھا تو وہی عظمت تم کو یحییٰ کو بھی کیوں نہیں دیتے جبکہ ہم نے اسے بھی بچپن میں ہی اپنا قرب عطاکردیا تھا اسی طرح یہاں بھی حضرت مسیح ؑ کی تعلیم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے عیسائیوں کا بڑا زور اس امر پر ہے کہ حضرت مسیح ؑ نرمی اور حلم اور عفو اور بردباری کی تعلیم دیتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلہ میں فرما دیا کہ یحییٰ بھی دل کا بڑا حلیم اور برد بار اور نرم مزاج تھا۔اگر نرمی اور حلم کسی فضیلت کا باعث ہیں تو یہ فضیلت حضرت یحییٰ کو بھی حاصل ہے۔غرض جتنی باتیں حضرت مسیح ؑ کی افضلیت کے متعلق پیش کی جاتی ہیں ان سب کی اللہ تعالیٰ نے اس جگہ تردید کر دی ہے۔(۱) کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیح دل کے بڑے حلیم تھے اور ان کی طبیعت میں رأفت اور محبت تھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یحییٰ بھی دل کا بڑا حلیم تھا اور اس کی طبیعت میں بھی رأفت اور محبت ڈالی گئی تھی۔(۲) کہا جاتا ہے کہ مسیح ایک نئی شریعت لایا تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے یحییٰ کو بھی کہا تھا کہ خُذِ الْکِتَابَ بِقُوَّةٍ تو اس کتاب پر مضبوطی سے عمل کر۔(۳) کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیح ؑ نے بچپن میں کلام کیا اوریہ ان کی فضیلت کی دلیل ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے یحییٰ کو بھی بچپن میں اپنا مامور بنا کر لوگوں کی طرف بھیج دیا تھا۔(۴) کہا جاتا ہے کہ مسیح ؑ گناہوں سے پاک تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یحییٰ بھی گناہوں سے پاک تھاکیونکہ ساتھ ہی فرماتا ہے و زکوۃً اس میں پاکیزگی اور تقدس بھی پایا جاتا تھا۔غرض جتنی خصوصیات حضرت مسیح ؑ میں بیان کی جاتی ہیں اللہ تعالیٰ نے وہ سب کی سب حضرت یحییٰ میں بیان کر دی ہیں اور اس طرح عیسائیوں پر حجت تمام کی ہے کہ اگر ان خصوصیات کی وجہ سے حضرت مسیح کو تم تمام نبیوں پر فضیلت دیتے ہو تو پھر یحییٰ کو بھی تم ایسا ہی کیوں نہیں سمجھتے جبکہ اس میں بھی یہی باتیں پائی جاتی تھیں۔وَ كَانَ تَقِيًّا۔اور وہ صاحب تقویٰ تھا۔پہلے فرمایا کہ اس میں زَکٰوۃً یعنی پاکیزگی پائی جاتی تھی پھر فرمایا کہ اس میں تقویٰ پایا جاتا تھا۔اردو میں جب ہم معنی الفاظ آ جائیں تو انسان سمجھتا ہے کہ ان کے کوئی الگ الگ معنے نہیں صرف ایک ہی مفہوم کو مختلف الفاظ میں حسن کلام کے لئے ادا کیا گیا ہے۔لیکن عربی زبان میں یہ بات نہیں۔عربی زبان میں ہر لفظ الگ الگ معنے رکھتا ہے۔پس كَانَ تَقِيًّا اور مفہوم کا حامل ہے اور زَکٰوۃً کا لفظ اور مفہوم کا حامل ہے۔زَکٰوۃً کا لفظ عربی زبان میں اندرونی خرابیوں کو دور کرنے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور تقویٰ کا لفظ باہر سے آنے والی خرابیوں کو دور کرنے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔پس اس آیت کے معنے یہ ہوئے کہ ہم نے اس کو اپنے پاس سے حلم اور نرمی بخشی اور ہم نے اس کے اندرونی خیالات بھی پاکیزہ بنائے اور جو باہر سے خرابیاں آتی ہیں ان کے مقابلہ کی بھی اس کو طاقت بخشی۔