تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 173
راتوں میں لوگوں سے کلام نہیں کرے گا یعنی ان تین راتوں میں لوگوں سے کلام نہکیجیئو۔گویا تو خدا کے لئے اپنے اوپر یہ واجب کر لے گا کہ میں نے تین رات دن لوگوں سے گفتگو نہیں کرنی حالانکہ تو تندرست ہو گا اور تجھ میںطاقت ہو گی کہ تو باتیں کرے۔یہاں خدا تعالیٰ کے ایک وعدے کو اس کے ایک حکم کے ساتھ وابستہ کر دیا گیا ہے۔اس میں حکمت یہ ہے کہ اگر بندہ وہ حکم پورا کر دے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے دیا گیا ہے تو وہ وعدہ کسی صورت میں بھی ٹل نہ سکے اور وہ بہرحال پورا ہو جائے۔اسی طرح ثَلٰثَ لَيَالٍ سے صرف تین راتیں مراد نہیں بلکہ دن بھی ساتھ ہی مراد ہیں۔جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَوَعَدْنَا مُوْسٰی ثَلَثِیْنَ لَیْلَۃً (الاعراف :۱۴۳) ہم نے موسیٰ ؑ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا حالانکہ وہاں دن بھی مراد ہیں۔پس یہاں بھی تین راتوں سے تین رات دن مراد ہیں نہ کہ صرف تین راتیں۔فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَيْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا اس کے بعد (زکریا) محراب سے نکل کر اپنی قوم کے پاس گئے اور انہیں آہستہ آواز میں کہا کہ صبح اور شام خدا تعالیٰ کی ٍ بُكْرَةً وَّ عَشِيًّا۰۰۱۲ تسبیح کرتے رہو۔حل لغات۔مـحراب مِـحْرَابٌ کے معنے چوبارہ کے بھی ہوتے ہیںاور محراب کے معنے گھر کے اچھے حصہ کے بھی ہوتے ہیں۔مسجد کے محراب کو اسی لئے محراب کہتے ہیں کہ وہاں امام کھڑا ہوتا ہے جو سب سے زیادہ معزز ہوتا ہے اور محراب اس جگہ کو بھی کہتے ہیںجہاں بادشاہ علیحدگی میںمسائل پر غور کرنے کے لئے بیٹھتے ہیں اور عوام کو وہاں آنے کی اجازت نہیں ہوتی۔اور قلعہ کو بھی محراب کہتے ہیں اور شیر کی کچھار کو بھی محراب کہتے ہیں۔(اقرب) اَوْحَی اِلَیْہِ۔اَوْحٰی اِلَیْہِ اِیْحَاءً کے معنے ہوتے ہیں۔بَعَثَہُ اس کو مبعوث کیا۔اسی طرح اَوْحٰی بِکَذَا کے معنے ہوتے ہی اَلْھَمَہُ بِہٖ۔اس کو کسی بات کی خبر دی۔اور اساس میں لکھا ہے کہ وَحَیْتُ اِلَیْہِ وَ اَوْحَیْتُ۔اِذَا کَلَّمْتَہُ بِمَا تُخْفِیْہِ مِنْ غَیْرِہِ یعنی وَحَیْتُ اِلَیْہِ اور اَوْحَیْتُ کے معنے ہوتے ہیں ایسی طرز پر بات کرنا کہ