تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 172
’’تو میرے عہد کو ماننا اور تیرے بعد تیری نسل پشت در پشت اسے مانے اور میرا عہد جو میرے اور تیرے درمیان اور تیرے بعد تیری نسل کے درمیان ہے اور جسے تم مانو گے سو یہ ہے کہ تم میں سے ہر ایک فرزند نرینہ کا ختنہ کیا جائے اور تم اپنے بدن کی کھلڑی کا ختنہ کیا کرنا اور یہ اس عہد کا نشان ہو گا جو میرے اور تمہارے درمیان ہے۔‘‘ اسی طرح حزقی ایل باب ۲۰میں سبت کو ایک نشان قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ’’میرے سبتوں کو مقدس جانو کہ وہ میرے اور تمہارے درمیان نشان ہوں تاکہ تم جانو کہ میں خدا وند تمہارا خدا ہوں۔‘‘ (حزقیل باب ۲۰ آیت ۲۰) ان حوالجات سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل میں کسی نیک کام کا کرنا پیشگوئیوں کے پورا ہونے کے لئے ایک ظاہری نشان سمجھا جاتا تھا۔اسی رنگ میں حضرت زکریا نے بھی خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے کوئی نشان دیا جائے یعنی مجھے کوئی ایسا حکم دیاجائے کہ جب میں اسے پورا کردوں تو یہ وعدہ اٹل ہو جائے کیونکہ جب بندہ اپنا وعدہ پورا کر دے تو اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ ضرور پورا کرتا ہے اور اس کوکسی اور رنگ میں نہیں بدلتا۔قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَيَالٍ سَوِيًّا۔اللہ تعالیٰ نے کہا تیرے لئے وہ حکم جو اس بات کی علامت ہو گا کہ تو نے خدا کا شکر ادا کر دیا ہے یہ ہے کہ تو لوگوں سے تین راتیں کلام نہیں کرے گا اس حالت میں کہ تو تندرست اور بے عیب ہو گا اور بغیر کسی بیماری کے ہو گا۔اور ان دنوں میں ذکر الٰہی کرتا رہے گا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اٰیتُکَ اَلَّا تُکَلِّمَ ثَلَاثَ لَیَال بلکہ فرمایا ہے اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ تو لوگوں سے کلا م نہیں کرے گا۔اس میں حکمت یہ ہے کہ انسان کامل صرف انسانوں سے ہی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے بھی باتیں کیا کرتا ہے چنانچہ دیکھ لو۔حضرت زکریا علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے کتنی لمبی باتیں کی ہیں کہ رَبِّ اِنِّيْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّيْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَيْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآىِٕكَ رَبِّ شَقِيًّا۔وَ اِنِّيْ خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَّرَآءِيْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِيْ عَاقِرًا فَهَبْ لِيْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّا۔يَّرِثُنِيْ وَ يَرِثُ مِنْ اٰلِ يَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا۔یہ تمام باتیں کسی آدمی سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے کی گئی ہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے بعض دفعہ فرشتوں سے بھی ہمکلام ہوتے ہیں پس النَّاسَ کے لفظ نے اس کلام کا استثناء کر دیا جو خدا اور اس کے ملائکہ سے کی جاتی ہے اور اس طرف اشارہ کر دیا کہ یہ صر ف ایک روزہ تھا جس میں انہیں خاموشی کے ساتھ ذکرالٰہی کرنے کی تاکید کی گئی تھی۔یہ نہیں کہ ان کی زبان ماری گئی تھی اگر زبان ماری جاتی تو لَاتُکَلِّمُ کہنا چاہیے تھا مگر کہا یہ گیا ہے کہ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ توان تین