تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 171
مجھے کوئی ایسا حکم دے جو تیرے شکر کی ایک ظاہری علامت ہو اور جس کو پورا کرکے میرا دل خوش ہو جائے کہ میں نے رب کا حکم پورا کر دیا ہے۔بائبل سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل میں آئندہ کی خبروں کے لئے نشان مقرر ہوتے تھے جن میں سے بعض نشان تو آسمانی ہوتے تھے اور بعض میں صرف عبادت کا حکم ملتا تھا۔چنانچہ پیدائش باب ۹میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے حضرت نوح اور ان کی اولاد سے آئندہ سب دنیا پر طوفان نہ لانے کا عہد کیا اور اس کے لئے قوس قزح کو نشان مقرر کیا۔بائبل کے الفاظ یہ ہیں کہ۔’’ خدا نے نوح اور اس کے بیٹوں سے کہا کہ دیکھو میں خود تم سے اور تمہارے بعد تمہاری نسل سے اور سب جانداروں سے جو تمہارے ساتھ ہیں۔کیا پرندے کیا چوپائے۔کیا زمین کے جانور یعنی زمین کے ان سب جانوروں کے بارے میں جو کشتی سے اترے عہد کرتا ہوں۔میں اس عہد کو تمہارے ساتھ قائم رکھوں گا کہ سب جان دار طوفان کے پانی سے پھر ہلاک نہ ہوں گے اور نہ کبھی زمین کو تباہ کرنے کے لئے پھر طوفان آئے گا۔اور خدا نے کہا کہ جو عہد میں اپنے اور تمہارے درمیان اور سب جانداروں کے درمیان جو تمہارے ساتھ ہیں پشت در پشت ہمیشہ کے لئے کرتا ہوں اس کا نشان یہ ہے کہ میں اپنی کمان کو بادل میں رکھتا ہوں۔وہ میرے اور زمین کے درمیان عہد کا نشان ہو گی اور ایسا ہو گا کہ جب میں زمین پر بادل لائوں گا تو میری کمان بادل میں دکھائی دے گی اور میں اپنے عہد کو جو میرے اور تمہارے اور ہرطرح کے جاندار کے درمیان ہے یاد کروں گا اور تمام جاندار وں کی ہلاکت کے لئے پانی کا طوفان پھر نہ ہوگا اور کمان بادل میں ہو گی اور میں اس پر نگاہ کروں گا تاکہ اس ابدی عہد کو یاد کروں۔جو خدا کے اور زمین کے سب طرح کے جاندار کے درمیان ہے۔پس خدا نے نوح سے کہا کہ یہ اس عہد کا نشان ہے جو میں اپنے اور زمین کے کل جانداروں کے درمیان قائم کرتا ہوں۔‘‘ (پیدائش باب ۹آیت۸تا ۱۷) یہ روایت گو بگڑی ہوئی ہو مگر بہرحال اس سے یہود کی روایات اور ان کے دستور کا علم ہو جاتا ہے اور پتہ لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ جب کوئی عہد کرتا تھا تو اس کے پورا ہونے کا وہ کوئی ظاہری نشان بھی مقرر کر دیتا تھا۔اسی طرح بعض دفعہ ایسا نشان مقرر کیا جاتا تھا جس کا کرنا خود بندے کے اختیار میں ہو۔چنانچہ پیدائش باب ۱۷آیت۹تا ۱۱میںلکھا ہے کہ خدا نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ