تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 166

لیکن قرآن کریم <mark>نے</mark> ان کو راستباز اور مومن اور نیک قرار دیا ہے(ص:۳۱)۔یہ کتنا بڑا ثبوت ہے اس بات کا کہ قرآنی تاریخ سچی ہے اور بائبل کی روایات مخدوش۔اگر یہ لوگ جن کا ذکر ہے خدا کے برگزیدہ تھے تو پھر ان سے ان افعال کا ارتکاب نہیں ہو سکتا۔اور اگر برگزیدہ نہ تھے تو پھر نبیوں میں ان کا ذکر کرنا حماقت ہے۔عجیب بات ہے کہ وہی باتیں جو بائبل میں نبیوں کی نسبت لکھی ہیں عوام الناس یا پادریوں کے ماں باپ کی نسبت کہی جائیں تو وہ لڑ<mark>نے</mark> مر<mark>نے</mark> پر تیار ہو جائیں گے مگر دلیری سے ان باتوں کو نبیوں کی نسبت تسلیم کر لیتے ہیں۔(۵) بائبل کہتی ہے کہ جب مریم حاملہ ہوئیں اور یوحنا کی ماںکے پاس گئیں تو یوحنا کی ماں روح القدس سے بھر گئیں اور بولیں کہ ’’یہ کیونکر ہوا کہ میرے خدا وند کی ماں مجھ پاس آئی کہ دیکھ تیرے سلام کی آواز جونہی میرے کان تک پہنچی لڑکا میرے پیٹ میں خوشی سے اچھل پڑا۔‘‘ (لوقا باب ۱آیت ۴۳و ۴۴) لیکن قرآن کہتا ہے کہ اٰتَيْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا (مریم :۱۳) اور یہ کہ سَيِّدًا وَّ حَصُوْرًا (آل عمران:۴۰) یعنی اس کو خدا <mark>نے</mark> روحانی طاقت اور روحانی حکمت اور روحانی بادشاہی بچپن سے ہی عطا فرمائی تھی۔اور یہ کہ وہ سردار تھا اور ہر قسم کی بدیوں سے پاک اور منزہ تھا۔گویا عیسائیوں کے نزدیک اختلاف یہ ہے کہ بائبل تو یحییٰ کو مسیح ؑ کا غلام قرار دیتی ہے مگر قرآن کہتا ہے کہ یحییٰ سید تھا اور بچپن سے ہی اسے سرداری عطا کی گئی تھی۔اس کا جواب یہ ہے کہ انجیل کے دوسرے حوالوں سے ظاہر ہے کہ لوقا کا بیان محض زیب داستان کے لئے ہے ورنہ حقیقت سے اسے دور کا بھی تعلق نہیں۔اگر یوحنا مسیح ؑکا خادم تھا جیسا کہ لوقا <mark>نے</mark> اس واقعہ میں لکھا ہے تو کیا مصیبت پڑی تھی کہ مسیح ؑ یوحنا کا شاگرد ہوتا۔اناجیل کے مصنفوں <mark>نے</mark> اپ<mark>نے</mark> آقا کو عزت دی<mark>نے</mark> کے لئے اس موقعہ پر <mark>سخت</mark> ظلم کئے ہیں۔مثلا متی کہتا ہے کہ مسیح ؑ یوحنا سے بپتسمہ پا<mark>نے</mark> کے لئے آیا اور اسے کہا کہ مجھے اپنا مرید بنائو تو یوحنا <mark>نے</mark> کہا کہ میں تجھ سے بپتسمہ پا<mark>نے</mark> کا محتاج ہوں (متی باب ۳آیت ۱۴) یعنی حضور میرے استاد ہیں اور میں تو آپ کا شاگرد ہوں میں آپ کو کس طرح بپتسمہ دے سکتا ہوں۔پھر یہ بات مسیح ؑ کے منہ میں بھی ڈالی گئی ہے کہ ’’اب ہو<mark>نے</mark> دے کیونکہ ہمیں مناسب ہے کہ یوں ہی سب راستبازی پوری کریں‘‘ ( متی بات۳آیت ۱۵) یعنی ہے تو یہ ٹھیک کہ میں بڑا ہوں اور تو چھوٹا ہے لیکن چونکہ نبی خبر دے چکے ہیں اس کا پورا کرنا بھی ضروری ہے۔یہ جواب کتنا غیر معقول ہے اگر مسیح یوحنا کی شاگردی سے بالا تھا تو نبیوں <mark>نے</mark> یہ پیشگوئی کیوں کی اور خدا تعالیٰ <mark>نے</mark> ایسا مقدر کیوں کیا؟ یہ عجیب بات ہے کہ مسیح جاتا ہے یوحنا کی بیعت کر<mark>نے</mark> اور یوحنا آگے سے یہ کہتا ہے کہ میں کس کی بیعت لوں میں تو خود چھوٹا