تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 167

ہوں اور تو بڑا ہے اور مسیح کہتا ہے پہلے نبیوں سے غلطی ہو گئی ہے۔ہے تو یہی درست کہ میں بڑا ہوں لیکن چونکہ وہ ایک بات کہہ چکے ہیں اس لئے اب اس کا پورا کرنا بھی ضروری ہے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے شیعوں کا عقیدہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب معراج کی رات خدا تعالیٰ کے پاس گئے اور باتیں ہونے لگیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ حضور اتنی دور سے میں چل کر آیا ہوں اب دیدار تو کروا دیجئے۔اس پر اللہ میاں نے پردہ اٹھایا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا دیکھا کہ حضرت علی ؓ بیٹھے ہیں۔انہوں نے کہا حضور نے اتنی تکلیف دے کر بلایا۔یہ دیدار تو نیچے بھی روزانہ ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ نے کہا اس میں بھی راز ہوتے ہیں۔اسی قسم کا راز یوحنا والے واقعہ میں ہے کہ مسیح یوحنا کے پا س ان کے مرید بننے کے لئے جاتے ہیں اور یوحنا کہتے ہیں توبہ توبہ بھلا مجھ میں یہ جرأت ہو سکتی ہے کہ میں آپ کی بیعت لوں اور حضرت مسیح کہتے ہیں کہ ہوں تو میں ہی سردار۔لیکن چونکہ نبیوں کے منہ سے ایک بات نکل چکی ہے اس لئے اس کو پورا کرنا بھی ضروری ہے۔کیا لغویت ہے۔مرقس نے بھی اسی رنگ کو اختیار کیا ہے گو اوپر والی گفتگو اس نے بیان نہیں کی۔لوقا نے بھی اس گفتگو کا تو ذکر نہیں کیا۔لیکن یوحنا کی شاگردی اور ماتحتی کا اوپر کے واقعہ میں اظہار کیا ہے۔یوحنا نے مسیح کے یوحنا سے بپتسمہ پانے کا ذکر چھوڑدیا ہے مگر ان باتوں سے کیا بنتا ہے۔تین اناحیل کہہ رہی ہیں کہ یوحنا نے مسیح کو بپتسمہ دیا جس کے معنے یہ ہیں کہ وہ استاد بنا۔بے شک مسیح اس سے بڑھ گیا مگر بڑھنے کے وقت بڑھا۔اس سے پہلے تو وہ بہرحال یوحنا کا شاگرد تھا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے دنیا میں کئی شاگرد استا د سے بڑھ جاتے ہیں۔استاد پرائمری پاس ہوتا ہے لیکن اس کا شاگرد ایم اے پاس کرلیتا ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ جب وہ پرائمری میں پڑھ رہا ہو تو پرائمری کا استاد اسے پڑھانے سے انکار کر دے اور کہے کہ تو بڑا ہے اور میں چھوٹا۔بے شک جب وہ ایم اے ہو جائے گا تو استاد سے آگے نکل جائے گا۔لیکن اس سے پہلے وہ اپنے استاد کی شاگردی سے انکار نہیں کر سکتا۔پس یہ کہناکہ یوحنا نے پیٹ سے اس کی بڑائی کا اقرار کیا ایک عبث فعل ہے۔اگر ایسا تھا تو اسے بپتسمہ پر مقرر ہی کیوں کیا گیا؟ قرآن نے جو بات بیان کی ہے کہ یوحنا مسیح کا مصدق تھا۔وہیری اپنی کتاب کی جلد ۲ص ۱۷میں اس پر سخت برافروختہ ہوا ہے کہ ایک ماتحت اور چھوٹے درجہ کے نبی کو مصدق قرار دیا گیا ہے۔مگر یہ اس کی حماقت ہے جو کچھ قرآن نے کہا ہے وہی انجیل نے بھی کہا ہے اور بتایا ہے کہ وہ مسیح کے لئے بطورارہاص تھا۔(۶) قرآن کہتا ہے کہ مریم کے پاس رزق آتا تھا بائبل میں اس کا ذکر نہیں۔اس اختلاف سے کچھ ثابت نہیں ہوتا۔یہ ایک طبعی امر ہے کہ لوگ بچوں کو محبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔خصوصاً ان بچوں کوجو نذر کے ہوں۔اور لوگ