تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 165

کہ خدا تعالیٰ بڑی قدرتوں کا مالک ہے۔اس لئے وہ اس سے دعائیں کرتا رہتا تھا۔پس جب اس کی دعا کی قبولیت کی اطلاع اسے ملی۔تو وہ حیرت و استعجاب کا شکارتو ہو سکتا تھا کہ خدا تعالیٰ ایسا قادر ہے کہ ایسی غیر معمولی دعا بھی سن سکتا ہے مگر وہ منکر اور متردد نہیں ہو سکتا تھا۔اور سزا منکر اور متردد کو ملا کرتی ہے۔حیرت اور استعجاب ظاہرکرنے والے کو انعام ملا کرتا ہے۔پس بائبل کی اپنی شہادت قرآنی معنوں کی تائید کرتی ہے کہ زکریا نشان کا طالب ضرور ہوا مگر انکار کا مرتکب نہیں ہوا۔پس بائبل کا یہ بیان کہ اسے سزا ملی اور وہ دس ماہ تک گونگا رہا غلط ہے اور قرآن کریم کا یہ بیان ہی درست ہے کہ صرف تین دن تک اس نے کلام نہ کیا۔اور یہ خاموشی ذکر الٰہی کے لئے تھی نہ کہ بطور سزا کے۔جیسا کہ سورئہ آل عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ اِلَّا رَمْزًا١ؕ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِيْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَ الْاِبْكَارِ (آل عمران :۴۲) یعنی تیرے لئے حکم یہ ہے کہ تو لوگوں سے تین دن تک کلام نہ کرے سوائے اشارہ کے اور بجائے لوگوں سے باتیں کرنے کے ان ایام میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرتے رہو اور صبح اور شام اس کی تسبیح کرو۔چونکہ تین دن انہوں نے ذکر الٰہی کرنا تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے حکم دے دیا کہ ان دنوں میں اور باتیں نہ کرو۔ورنہ اسے کوئی بیماری نہیں تھی۔چنانچہ قرآن کریم نے اسی الزام کو دور کرنے کے لئے جو انجیل نے حضرت زکریا پر لگایا ہے کہ وہ گونگے ہو گئے تھے فرمایا اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَيَالٍ سَوِيًّا۔تیرا نشان یہ ہے کہ تو تین دن رات کلام نہیں کرے گا مگر ہو گا بے عیب اور تندرست (سَوِيًّا ) کوئی بیماری تجھے نہیں ہو گی۔اب دیکھ لو قرآنی بات کتنی سچی نظر آتی ہے کہ خدا نے جب حضرت زکریا کی دعا قبول کی۔تو انہوں نے کہا خدایا اب مجھے بھی شکریہ کا موقع دیجئے۔خدا نے کہا تین دن مسجد میںاعتکاف بیٹھو اور ذکر الٰہی میں مشغول رہو یہ تمہاری طرف سے ہمارے شکریہ کا ایک نشان ہوگا لیکن بائبل کا بیان عقلاً بھی غلط ہےاور نقلًایعنی دلیل کے لحاظ سے بھی باطل ہے۔قرآن کریم اور بائبل میں یہ ایک نمایاں فرق ہے۔کہ بائبل ہمیشہ انبیاء پر گناہ کا الزام لگانے پر دلیر ہوتی ہے۔مگر ایسے ہر الزام کی قرآن کریم تردید کرتا ہے۔مثلاً بائبل میں لکھا ہے کہ ہارون نے شرک کیا (خروج باب ۳۲آیت ۱تا ۶) قرآن کہتا ہے کہ اس نے شرک نہیں کیا(طٰہٰ:۹۱)۔بائبل کہتی ہے کہ زکریا نے خدا کی قدرت کا انکارکیا تو اسے سزا ملی (لوقا باب۱آیت ۲۰و۲۱) قرآن کہتا ہے کہ اس نے خدائی وعدہ کو سن کر چاہا کہ اسے شکریہ کا کوئی کام بتایا جائے چنانچہ خدا تعالیٰ نے تین دن چپ کا روزہ رکھنے اور ذکر الٰہی کی کثرت کا ارشاد فرمایا اور اس عرصہ میں ان پر نہ کوئی عذاب آیا نہ بیماری ہوئی۔اسی طرح بائبل نے حضرت سلیمان ؑ کو مجرم اور عیاش اور بے دین قرار دیا ہے (۱۔سلاطین باب ۱۱ آیت ۱تا ۶)