تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 153

اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام خاموش ہو گئے۔اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اب یہ بستی ضرور تباہ ہو کر رہے گی۔اب دیکھو خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی خوش کر دیا اور اپنی تقدیر بھی پوری کر دی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جب یہ دعا کر رہے ہوں گے تو وہ اپنے دل میں کتنے خوش ہوں گے اور انہوں نے اسے خدا تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان سمجھا ہو گا کہ خدا تعالیٰ ایک بستی کو بتاہ کرنے کا ارادہ کر چکا ہے مگر ان کی دعا اور التجا پر وہ کہتا ہے کہ اچھا میں نے تمہاری بات مان لی اگر اس میں پچاس مومن ہوئے تو میں اس بستی کو کبھی ہلاک نہیں کروں گا۔پھر وہ پینتالیس پر آئے تو خدا تعالیٰ نے یہ بات بھی مان لی پھر چالیس پر آئے تو یہ بات بھی مان لی۔یہاں تک کہ ہوتے ہوتے دس پر بات آ گئی مگر اس کے بعد خود بخود ان کی زبان بند ہو گئی اور انہوں نے خیال کیا کہ اب میں ا س سے زیادہ خدا تعالیٰ کو اور کیا کہوں۔میری تو اب زبان ہی نہیں چلتی۔اسی طرح حضرت زکریا کے دل میں جب اس بات سے گھبراہٹ پیدا ہوئی کہ قوم تباہ ہونے والی ہے تو ان کے دل میں خیال آیا کہ میں تو اتنا بوڑھا ہو چکا ہوں کہ اس بوجھ کے اٹھانے کی اب مجھ میں ہمت ہی نہیں رہی اگر خدا تعالیٰ مجھے کو ئی بیٹا دے اور ایسا بیٹا دے جو نبی ہو اور وہ آنے والے اسرائیلی موعود کا راستہ صاف کرے اور لوگوں کو اس پر ایمان لانے کی تحریک کرے تو ممکن ہے یہ عذاب ہماری قوم پر سے ٹل جائے اور خدا تعالیٰ کا نور اس میں کچھ اور مدت تک باقی رہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔بہت اچھا ہم تجھے بیٹا دیں گے اور اسے نبی بھی بنا دیںگے مگر پھر بھی ہماری تقدیر ہی پوری ہو گی یہودی قوم پھر بھی ایمان نہیں لائے گی بلکہ خود تمہارا بیٹا انہی لوگوں کے ہاتھ سے قید خانہ میں قتل کیا جائے گا۔يٰزَكَرِيَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ ا۟سْمُهٗ يَحْيٰى ١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ (اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا) اے زکریا۔ہم تجھے ایک لڑکے کی خبر دیتے ہیں (جو جوانی کی عمر تک پہنچے گا اور) اس کا مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا۰۰۸ نام (خدا کی طرف سے ) یحیی ہوگا ہم نے اس سے پہلے کسی کو اس نام سے یاد نہیں کیا۔حل لغات۔غُلَامٌ غلام کا لفظ تین مختلف عمروں والوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے یعنی پیدائش سے لے کر جوانی تک کی عمر والے کو بھی غلام کہتے ہیں۔جوانی سے لے کر کہولت تک کی عمر والے کو بھی غلام کہتے ہیں اور کہولت سے لے کر بڑھاپے تک کی عمر والے کو بھی غلام کہتے ہیں (اقرب)۔گویا زندگی کے چاردوروں بچپن، جوانی ،