تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 152

کوشش یہ تھی کہ یہ نور کچھ اور دیر قائم رہے اور انہیں ایک ایسا بیٹا ملے جو اس بات کے لئے اپنا پور ا زور صرف کر دے کہ بنی اسرائیل مسیح کے منکر نہ ہوں۔اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا سن کر حضرت یحییٰ کو بھیج دیا اور اس نے اپنا سارا زور بھی لگا لیا مگر پھر خدا تعالیٰ کی تقدیر ہی پوری ہوئی اور وہی کچھ ہوا جس کا وہ فیصلہ کر چکا تھا۔جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں جب فرشتے ان کے پاس لوط کی بستی کی ہلاکت کی خبر لے کر آئے یا انسان آئے جیسا کہ ہمارا عقیدہ ہے اور انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے لوط کی قوم کو تباہ کرنے کا حکم دیا ہے تو اس خبر کو سن کر انہیں درد پہنچا اور انہوں نے دعا کرنی شروع کی کہ یا اللہ اس قوم پر سے عذاب ٹل جائے دعا کرتے کرتے ان کے دل میں جوش پید اہو گیا اور انہوں نے کہا خدایا! ’’ کیا تو نیک کو بد کے ساتھ ہلاک کرے گا شاید اس شہر میں پچاس راستباز ہوں کیا تو اسے ہلاک کرے گا اور ان پچاس راستبازوں کی خاطر جو اس میں ہوں اس مقام کو نہ چھوڑے گاایسا کرنا تجھ سے بعید ہے کہ نیک کو بد کے ساتھ مار ڈالے اور نیک بد کے برابر ہو جائیں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے کہا اے ابراہیم ! ’’ اگر مجھے سدوم میں شہر کے اندر پچاس راستباز ملیں تو میں ان کی خاطر اس مقام کو چھوڑ دوں گا‘‘ اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خیال آیا کہ معلوم ہوتا ہے اس میں پچاس بھی نیک آدمی نہیں ہیں اور انہوں نے کہا اچھا ’’ اگرچہ میں خاک اور راکھ ہوں شاید پچاس راستبازوں میں پانچ کم ہوں کیا ان پانچ کی کمی کے سبب سے تو تمام شہر کو نیست کرے گا اس نے کہا اگر مجھے وہاں پینتالیس ملیں تو میں اسے نیست نہیں کروں گا۔پھر اس نے اس سے کہا کہ شاید وہاں چالیس ملیں۔تب اس نے کہا کہ میں ان چالیس کی خاطر بھی یہ نہیں کروں گا۔پھراس نے کہا۔خداوند ناراض نہ ہو تو میں کچھ اور عرض کروں۔شاید وہاں تیس ملیں۔اس نے کہا اگر مجھے وہاں تیس بھی ملیں تو بھی ایسا نہیں کروں گا۔پھر اس نے کہا۔دیکھئے میں نے خداوند سے بات کرنے کی جرأت کی شاید وہاں بیس ملیں۔اس نے کہا میں بیس کی خاطر بھی اسے نیست نہیں کروں گا۔تب اس نے کہا خداوند ناراض نہ ہو تو میں ایک بار اور کچھ عرض کروں۔شاید وہاں دس ملیں۔اس نے کہا۔میں دس کی خاطر بھی اسے نیست نہیں کروں گا۔‘‘ (پیدائش باب ۱۸ آیت ۲۳ تا ۳۲)