تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 139

ہوگا اور دوستی میں پکا ہوگا لازماً وہ ہادی بھی ہو گا۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک صادق انسان کا دوست اور پیارا اور رحم کا مستحق وجود ڈوب رہا ہو اور وہ اسے نکالے نہیں۔تباہ ہو رہا ہو اور وہ اسے بچائے نہیں۔غرض علم کی صفت کے ماتحت کافی لفظ آتا ہے اور صادق کی صفت کے ماتحت ہادی کی لفظ آتا ہے۔عیسائیت کے تمام مسائل انہی چار صفات کے اردگرد چکر کھاتے ہیں کیونکہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے علیم اور کافی ہونے کو اور اس کے صادق اور ہادی ہونے کو نہیں سمجھا اور اس لئے انہوں نے غلط عقائد اختیار کر لئے۔اس سورۃمیں چونکہ خدا تعالیٰ نے عیسائیت کا ذکر کیا ہے اس لئے خصوصیت کے ساتھ ان صفات کو بیان کیا گیا ہے جو عیسائیت کے رد میں کام آنے والی تھیں۔میں نے بتایا تھا کہ حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مقطعات کو صفات الٰہیہ قرار دیا ہے اور میری ایک پرانی رؤیا بھی اس کی تصدیق کرتی ہے میں ایک دفعہ سندھ سے آ رہا تھا۔کہ میں نے رؤیا میں دیکھا کہ کسی نے مجھ سے کہا ہے کہ قرآن کریم میں جو کٓھٰیٰعٓصٓ آتا ہے ان حروف مقطعات میں تمہارا بھی ذکر ہے۔گویا مجھے بتایا گیا کہ کٓھٰیٰعٓصٓ میں میرا بھی ذکر آتا ہے اور چونکہ میرا کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا کام ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام مثیل مسیح ناصری ہیں۔اس لئے درحقیقت ان حروف مقطعات میں میرا ذکر ہونے کے یہ معنے ہیں کہ کٓھٰیٰعٓصٓ میں مسیحیت کا ذکر ہے اور جب اس میں پہلی مسیحیت کا ذکر ہے تو لازماً اس میں دوسرے مسیح کا ذکر ہوگا۔اس میں پہلی مسیحیت کا ذکر تو اس لحاظ سے ہے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے کافی اور ہادی ہونے اور اس کے علیم اور صادق ہونے کی صفات کو نہ سمجھ کر غلط مذہب اختیار کر لیا۔ا ور ہمارے حق میں یہ مقطعات اس لحاظ سے ہوںگے کہ ہم نے انہی صفات سے کام لے کر عیسائیت کا رد کر دیا۔گویا مراد تو دونوں سلسلے ہوں گے مسیح ناصری کا سلسلہ بھی اور مسیح موعود ؑ کا سلسلہ بھی مگر عیسائیت کے لحاظ سے اس کے یہ معنے ہوں گے کہ ان صفات کو مدنظر نہ رکھ کر وہ صحیح راستہ سے بھٹک گئے اور ہمارے لئے اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کی ان صفات نے ہماری تائید کی اور ہم نے ان کے ذریعہ سے عیسائیت کا کو کچل دیا۔درحقیقت دنیا میں تمام روحانی کام صفاتِ الٰہیہ سے ہی چلتے ہیں اور اگر کسی کو علم صحیح عطا ہو جائے تو وہ صرف صفات الٰہیہ سے ہی تمام غلط مذاہب کو ردّ کر سکتا اورا ن کا باطل ہونا ثابت کر سکتا ہے۔