تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 138
لئے تیار نہیں کہ مسیح دوبارہ زندہ ہو گیا ہے اس پر حضرت مسیح نے تھوما کو بلایا اور کہا میرے ہاتھوں کو دیکھ اور اپنا ہاتھ میری پسلی میںڈال اور دیکھ کہ میں مسیح ہی ہوںکوئی روح نہیں۔( یوحنا باب ۲۰ آیت ۲۴ تا ۲۹) یہ سارے واقعات بتاتے ہیں کہ حضرت مسیح ؑ نے جو پیشگوئی کی تھی کہ یوناہ نبی کا نشان اس قوم کو دکھایا جائے گا وہ لفظ بلفظ پوری ہو ئی۔ایک گوشت پوست والے مسیح کو صلیب پر لٹکایا گیا مگر وہ صلیب پر زندہ رہا۔وہ زندہ قبر میں داخل ہوا اور زندہ ہی قبر میں سے نکلا اور اس کے بعد وہ لوگوں سے چھپتا پھرا۔کیونکہ قانون اس ملک میں رہنے کی انہیں اجازت نہیں دیتا تھا۔اور یہی اللہ تعالیٰ کی وہ مخفی تدبیر تھی جس کے ماتحت وہ مجبور ہوئے کہ کشمیر اور افغانستان کی طرف جائیں اور بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کو تلاش کریں۔خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ ان حالات کے نتیجہ میں مسیح اس ملک میں رہنا مناسب ہی نہیں سمجھے گا اور وہ خوشی سے خود ان قوموں کی طرف چلا جائے گا جن کی ہدایت اور اصلاح کےلئے اسے مبعوث کیا گیا ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا جب انہوں نے دیکھا کہ اب فلسطین میں میرا رہنا مشکل ہے تو مشرق کی طرف چلے گئے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام بنی اسرائیل کےان دس قبائل کو پہنچاتے رہے جو کشمیر اور افغانستان میں آ بسے تھے۔اس بحث کا اگلا حصہ بائبل سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ افغانستان اور کشمیر کی تاریخوں اور بعض پرانی قبائلی روایات وغیرہ سے اس کا تعلق ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی ایک کتاب میں جس کا نام ’’ مسیح ہندوستان میں ‘‘ ہے اس موضوع پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور تاریخی شواہد سے ثابت کیا ہے کہ واقعہ صلیب کے بعد حضرت مسیح ہجرت کر کے افغانستان اور کشمیر کی طرف آ گئے تھے۔اس کے علاوہ بعض اور تحقیقاتیں بھی ہوئی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مغرب کی طرف سے ایک نبی جسے شہزادہ نبی کہا جاتا تھا اور جس کے ہاتھوں اور پائوں میں زخموں کے نشانات تھے ہجرت کر کے کشمیر میں آیا اور اس نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا۔غرض کٓھٰیٰعٓصٓ میں عیسائیت کے ابطال کےلئے خدا تعالیٰ کی چار صفات پیش کی گئی ہیں۔یعنی صفت کافی ، صفت ہادی ، صفت علیم اور صفت صادق اور جیسا کہ میں شروع میں بتا چکا ہوں خدا تعالیٰ کی صفت کافی اور ہادی اس کی صفت علیم اور صادق کے تابع ہیں جو علیم ہوتا ہے وہ کافی ہوتا ہے اور جو صادق ہوتا ہے وہ ہادی ہوتا ہے۔اس وقت ہی کسی کا علاج ناقص ہوتا ہے جب اسے ساری مرض کا علم نہ ہو۔یا مرض کا علاج معلوم نہ ہو۔تشخیص ناقص ہو تب بھی نسخہ ناقص لکھا جاتا ہے اور اگر علاج پورا معلوم نہ ہو تو تب بھی نسخہ ناقص ہوتا ہے لیکن جو علیم ہو گا اور جسے ہر بات کا علم ہو گا اس کا نسخہ اپنی ذات میں مکمل ہو گا یہ نہیں ہوگا کہ باوجود علم کے وہ مرض ادھوری بتائے یا باوجود علم کے نسخہ ناقص لکھے۔دوسری صفت صادق ہے صادق کے معنے ہوتے ہیں مخلص سچا اور دوستی میں پکا اب جو شخص سچا ہو گا مخلص