تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 140

ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِيَّاۖۚ۰۰۳اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً (اس سورت میں ) تیرے رب کی(اس ) رحمت کا ذکر (ہے )جو اس نے اپنے بندے زکریا پر (اس وقت ) کی خَفِيًّا۰۰۴ جب اس نے اپنے رب کو آہستہ آواز سے پکارا حل لغات۔ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ خبر ہے ایک مبتداء محذوف کی جو ھٰذا ہے یعنی ھٰذَا ذِکْرُ رَحْمَتِ رَبِّکَ یہ ذکر ہے تیرے رب کی رحمت کا۔یہاں مصدر جو ذکر ہے فعل کا عمل کررہا ہے اور یہ عبارت اپنے معنوں کے لحاظ سے اس طرح کہ ھٰذَا ذِکْرُ رَحْمَتِ رَبِّکَ عَبْدَہُ اَیْ زَکَرِیَّا حِیْنَ نَادَہُ یعنی یہ ذکر ہے تیرے رب کی رحمت کا وہ رحمت جو اس نے اپنے بندہ پر کی۔کون سے بندہ پر ؟ زکریا پر۔کس وقت کی؟ جب اس نے اپنے رب کو ایک ایسی آواز میں پکارا جو خفی یعنی آہستہ تھی۔نَادَی کے معنے ہوتے ہیں صَاحَ بِہٖ یعنی اونچی اور بلند آواز سے پکارا اور نَادَی فُلَانًا کے معنے ہوتے ہیں جَالَسَہٗ فِی النَّادِی اس کے ساتھ مجلس میں اٹھتا بیٹھتا رہا اور اس کے معنے فَاخَرَہٗ کے بھی ہوتے ہیں۔یعنی کسی کے ساتھ مفاخرت کی باتیں کیں اور نَادَی بِسِرِّہِ کے معنے ہوتے ہیں اَظْھَرَہٗ اس نے اپنے دل کا رازاس پر ظاہر کیا۔(اقرب) تفسیر۔میں اوپر بتا چکا ہوں کہ اس سورۃ میں عیسائیت پر بحث کی گئی ہے اور عیسوی عقائد کی تردید کے لئے کٓھٰیٰعٓصٓ میں چار صفات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔دو۲ بنیادی صفات کی طرف اور دو۲ ایسی صفات کی طرف جو ان صفات کا لازمی ظہور ہیں۔بنیادی صفات عالم اور صادق کی ہیں اور وہ صفات جو ان دو کا لازمی نتیجہ ہیں وہ کافی اور ہادی کی صفات ہیں۔لیکن ابتداء زکریا ؑکے ذکر سے کی گئی ہے اس میں کیا حکمت ہے ؟ اور عیسائیت کے ذکر سے پہلے حضرت زکریا ؑ کا کیوں ذکر کیا گیا ہے ؟یہ ایک اہم سوال ہے جس کا حل کر نا ضروری ہے۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ اس جگہ زکریا سے وہ زکریا مراد نہیں جن کی کتاب بائبل میں شامل ہے وہ زکریا ۴۸۷ سال قبل مسیح گزرے ہیں اور یہ زکریا وہ ہیں جو حضرت مسیح کے قریب زمانہ میں آپ کی والدہ کے کفیل تھے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ زکریا ؑ بھی نبی تھے لیکن اناجیل میں ان کا ذکر بطور کاہن کیا گیا ہے بطور نبی کے