تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 136
معلوم ہوتا ہے یہودی بھی دل میں گھبرائے ہوئے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ ہم نے ایک بے گناہ کو سزا دلوائی ہے پس چونکہ ان کے دل میں چور تھا اور وہ جانتے تھے کہ ہم ایک نیک اور خدارسیدہ انسان کو سزا دلوا رہے ہیں۔اس لئے جب انہوں نے ایک شدید آندھی دیکھی توڈر گئے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا عذاب معلوم ہوتا ہے۔اور انہوں نے زیادہ مزاحمت نہیں کی۔بلکہ کہا کہ اچھا اگر وہ مر گیا ہے تو اسے دفن کر دو۔ان تمام واقعات سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیح کے صلیب پر مرنے کا کوئی سوال ہی نہیں ہو سکتا۔عام طور پر ساتویں دن تک بھی لوگ زندہ رہا کرتے تھے اور ہڈیاں توڑ کر انہیں مارنا پڑتا تھا کجا یہ کہ اڑھائی یا تین گھنٹہ تک صلیب پر رہنے کے نتیجہ میں وہ فوت ہو جاتے۔ان کا صلیب پر لٹکنے کا وقت زیادہ سے زیادہ ساڑھے تین گھنٹے ہو سکتا ہے مگر جب اس صلیب پر سات سات دن تک بھی لوگ زندہ رہتے تھے تو ساڑھے تین گھنٹہ بلکہ اس سے بھی کم عرصہ میں آپ کس طرح فوت ہو سکتے تھے اور پھر وہ بھی ایسی صورت میں جبکہ آپ کے ماننے والے آپ کے پہریدار تھے اور انہوں نے آپ کی تکلیف کو کم کرنے اور آپ کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔بہرحال جب حضرت مسیح کو صلیب پر سے اتار لیا گیا تو یوسف آرمیتیا پیلا طوس کے پاس آئے اور اس سے کہا کہ لاش میرے حوالے کی جائے۔چنانچہ پیلا طوس نے حکم دے دیا کہ لاش یوسف آرمیتیا کو دے دی جائے ( متی باب ۲۷ آیت ۵۸) اس کے بعد یوسف آرمیتیاہ نے ان کو ایک قبر میں جا کر رکھ دیا۔مگر وہ قبر ہماری قبروں جیسی نہیں تھی۔اس قبر میں تو کسی کو رکھا جائے تو اس کا سانس بند ہو جائے کیونکہ یہ اور طرح بنائی جاتی ہے وہ قبر ایک کھلی کوٹھڑی تھی جو چٹان میں کھدی ہوئی تھی (متی باب ۲۷ آیت ۶۰) یوسف آرمیتیاہ نے اس قبر میں حضرت مسیح کو جا کر رکھ دیا اور سامنے دروازہ پر ایک پتھر لڑھکا دیا ( متی باب ۲۷ آیت ۶۰) تاکہ لوگوں کو شبہ بھی نہ ہو اور ہوا کی آمدورفت بھی جاری رہے۔یہ سارے واقعات بتاتے ہیں کہ یہ امر قطعی طور پر ناممکن تھا کہ مسیح صلیب پر مر سکتا۔یوں تو بعض دفعہ انسان بیٹھے ہوئے زمین پر سے اٹھنے لگتا ہے تو اس کا دم نکل جاتا ہے چلتے چلتے کھڑا ہوتا ہے تو دم نکل جاتا ہے مگر یہ اور چیز ہے ہم جس امر پر بحث کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ عام طور پر ان حالات میںجو حضرت مسیح کو پیش آئے لوگ مرا نہیں کرتے بلکہ زندہ رہتے ہیں اور حضرت مسیح کی موت بھی ان حالات میں قطعی طور پر ناممکن تھی۔شروع سے لے کر آخر تک ان کے ساتھ ایسے لوگ رہے جو ان کے مرید تھے یا ان کے دوست اور خیرخواہ تھے اور انہوں نے ہر ممکن کوشش آپ کو بچانے کے لئے کی۔پھر ان کی خیرخواہی کا اس امر سے بھی پتہ چلتا ہے کہ جب حضرت مسیح کو صلیب پر سے اتار لیا گیا اور ایک قبر میں رکھ دیا گیا تو یہودیوں نے درخواست کی کہ جس کوٹھڑی میں مسیح کو رکھا گیا ہے اس پر تین دن تک