تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 137

پہرہ لگا دیا جائے کیونکہ مسیح کہا کرتا تھا کہ میںیوناہ کی طرح تین دن رات کے بعد زندہ ہو جائوں گا۔مگر پیلاطوس نے انہیں سرکاری پہرے دار دینے سے انکار کر دیاا ور کہا کہ ’’ تمہارے پاس پہرے والے ہیں جائو جہاں تک تم سے ہو سکے اس کی حفاطت کرو۔‘‘ ( متی باب ۲۷ آیت ۶۵) پیلا طوس کی اس انکار سے یہی غرض تھی کہ اگر سرکاری پہرےدار مقرر کئے گئے تو حضرت مسیح باہر نہیں نکل سکیں گے اور اگر وہ پہریداروں کا مقابلہ کریں گے تو ان کا مقابلہ حکومت کا مقابلہ سمجھا ئے گا لیکن اگر عام لوگ پہرہ پر ہوئے تو ان کا مقابلہ آسانی کے ساتھ کیا جا سکے گا۔پس پیلا طوس نے انکار کرد یا اور کہا کہ میں پولیس دینے کے لئے تیار نہیں۔پھر اس کے بعد جو واقعات ہوئے وہ بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت نہیں ہوئے تھے۔اگر عیسائیوں کے عقیدہ کے مطابق مسیح مر کر زندہ ہو چکے تھے تو وہ خدا کے بیٹے بن چکے تھے۔ا یسی صورت میں انہیں لوگوں کا کوئی ڈر اور خوف نہیں ہو سکتا تھا۔مگر انجیل بتاتی ہے کہ واقعہ صلیب کے بعد وہ چھپ چھپ کر پھرا کرتے تھے اور اپنے ساتھیوں سے بھی کہا کرتے تھے کہ کسی کو بتانا نہیں کہ میں زندہ ہوں۔بلکہ انجیل سے پتہ لگتا ہے کہ انہوں نے اپنے حواریوں کو بھی نہیں بتایا تھا کہ وہ کہاں رہتے ہیں۔ممکن ہے یوسف آرمیتیاہ کے مکان میں ہی رہتے ہوں۔کیونکہ لکھا ہے کہ مسیح یکدم ظاہر ہو جاتا اور پھر تھوڑی دیر کے بعد ہی کہیں ادھر ادھر غائب ہو جاتا۔ایک دفعہ جب وہ اپنے حواریوں کے پاس آئے تو انہیں دیکھنے کے باوجود یہ یقین نہ آیا کہ یہ سچ مچ مسیح کھڑا ہے۔اس پر انہوں نے کہا کہ کیا تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے؟ انہوں نے مچھلی کا ایک ٹکڑا اور کچھ شہد دیا اور اس نے ان کے سامنے کھایا تب انہیں یقین آیا کہ وہ واقعہ میں مسیح کو دیکھ رہے ہیں۔( لوقاباب ۲۴ آیت ۴۱تا ۴۳) اب یہ ظاہر ہے کہ کوئی روح ایسا نہیں کیا کرتی۔اس قسم کے کام جسم ہی کیا کرتا ہے مگر چونکہ قانون حکومت کے مطابق وہ پھانسی کی سزا کے مستحق ہو چکے تھے اور اگر پکڑے جاتے تو دوبارہ پھانسی پر لٹکا دئیے جاتے اس لئے ضروری تھا کہ وہ چھپ کررہتے اور حواریوں کو بھی نہ بتاتے کہ وہ کہاں رہائش رکھتے ہیں۔بہرحال انجیل کے بیانات سے یہ امر قطعی طور پر ثابت ہے کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ وہ صلیب پر زندہ رہے۔قبر میں زندہ رہے اور پھر زندہ ہی اس قبر میں سے نکلے اور انہوں نے حواریوں کو بتایا کہ میں زندہ ہوں لطیفہ یہ ہے انجیل بتاتی ہے جب تھوما کو یہ خبر پہنچی کہ مسیح زندہ ہے تو اس نے کہا جب تک میں اس کے ہاتھوں میں کیلوں کے نشان نہ دیکھوں گا اور جب تک ان کیلوں کے نشان میں اپنی انگلی نہ ڈالوں گا میں اس بات کو ماننے کے