تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 129
چچاور پھر دوبارہ پھانسی پر لٹکا دیا جائے گا۔غرض خدا تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کر دئیے کہ یوناہ نبی کی طرح وہ مجبور ہو کر کشمیر اور افغانستان کی طرف چلے گئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نبی خدا کی راہ میں موت سے نہیں ڈرتا لیکن نبی نکمی زندگی کو برداشت نہیںکر سکتا۔وہ کام کے لئے پیدا کیاجاتا ہے۔اور کام ہی کا عاشق ہوتا ہے۔وہ ایک مشین ہوتا ہے جو ہر وقت چلتی ہے پھر کس طرح ہو سکتا تھا کہ مسیح اپنی باقی عمر ادھرادھر چھپ کر گزار دے۔پس اس واقعہ نے جہاں اس کے کے ایمان کو اور بھی مضبوط کر دیا وہاں اسے جلد سے جلد فلسطین چھوڑ کریوناہ نبی کی طرح مشرق میں جا کر خدا تعالیٰ کا کلام سنانے پر مجبور کر دیا۔جب مسیح نے ان کو یہ واقعات سنائے ہوں گے اور بتایا ہو گا کہ ان ان حالات کی وجہ سے میں تمہاری طرف آنے پرمجبور ہوا ہوں تو کس طرح ان کے ایمان بڑھ گئے ہوںگے اور کس طرح ان کے دلوں میں اللہ تعالی کے شکر کے جذبات پیدا ہوئے ہوں گے کشمیر کی تاریخوں سے پتہ لگتا ہے کہ جب حضرت مسیح ؑ کشمیر میں داخل ہوئے تو ان کے زخم ابھی موجودتھے۔معلوم ہوتا ہے اس زمانہ میں جراح اتنے اچھے نہیں ہوتے تھے۔چنانچہ لکھا ہے کہ جب شہزادہ نبی کشمیر پہنچاتو اس کے ہاتھوںاور پیروں پر زخم تھے جن کا ایک لمبے عرصہ تک وہاں کے جراح علاج کرتے رہے جب حضرت مسیح نے ان کو یہ واقعات سنائے ہوںگے کہ اس طرح جبراً اللہ تعالیٰ مجھے فلسطین سے نکال کرتمہاری طرف لایا۔اگر میں وہیں رہتاتو وہ دوبارہ مجھے پھانسی دےدیتے۔تو وہ اپنی خوش قسمتی پر کتنا ناز کرتے ہوںگے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ قدرت رکھتا تھا کہ انہیں پھر بچا لیتا۔وہ پھر صلیب پر لٹکاتے تو پھر بچا لیتا مگراس طرح صلیب پرچڑھنا اور اترنا ہی رہتا تو حضرت مسیح تبلیغ نہیں کر سکتے تھے۔بہر حال جب یہ باتیں انہوں نے سنی ہوںگی تو ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت کتنی بڑھ گئی ہوگی کہ وہ ایک نبی کو مجبور کرکے ہمارے ملک میں لایا تا کہ ہم اس کے ذریعہ سےہدایت حاصل کریں بےشک بعض لوگوں نے مخالفت بھی کی ہوگی اور مخالفت ہونی بھی چاہیے مگر تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ لوگ حضرت مسیح کے بہت جلد معتقد ہو گئے (Jesus in Heaven On The Earth by Khawaja Nazir Ahmad p۔368۔369) اور بہت جلد انہوں نے ایک نبی کی حیثیت میں آپ کو ماننا شروع کر دیا۔غرض ان حالات میں خدا تعالیٰ نے ان کو مجبو رکر کے وہاں بھجوا دیا۔اگر ہم یہ تشریح نہ مانیں تو کفارہ تو الگ رہا مسیح ایک سچا اور راستباز انسان بھی نہیں رہتا۔کیونکہ مسیح صاف کہتا ہے کہ میں قبر میں زندہ جائوں گا ، قبر میں زندہ رہوں گا اور قبر میں سے زندہ نکلوں گا، اور یہ کہ ان واقعات کے بعد میرا گمشدہ بھیڑوں کی طرف جانا ضروری ہے تاکہ یوناہ نبی سے میری مماثلت ثابت ہو جائے۔یوناہ آخر کس وقت تبلیغ کے لئے نینوہ والوں کی طرف گئے تھے۔اسی وقت جب وہ مچھلی کے پیٹ میںسے نکلے۔اسی طرح مسیح کا اصل