تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 130

کام کا زمانہ وہی تھا جب وہ قبر میں سے نکلا۔اگر یہ بات واقع نہیں ہوئی اور اگر قبر میں سے زندہ نکلنے کے بعد مسیح نے تبلیغ نہیں کی اور اس نے اپنی گمشدہ بھیڑوں کو جمع نہیں کیا۔تو مسیح بھی جھوٹا ثابت ہوتا ہے اور یسعیاہ وغیرہ وہ انبیاء بھی نعوذ باللہ جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔جنہوں نے مسیح کے متعلق یہ خبر دی تھی کہ وہ بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کو اکٹھا کرے گا۔پس یہ واقعات اس امر کا قطعی ثبوت بہم پہنچاتے ہیں کہ مسیح ؑ کے لئے صلیب پر مرنا یا کفارہ ہونا مقدر ہی نہیں تھا۔اور اگر کفارہ کو مانا جائے تو مسیح کو سچا ماننا بھی ناممکن ہو جاتا ہے۔کیونکہ اس کی سب سے بڑی پیشگوئی جھوٹی نکلتی ہے اسی طرح وہ کلام بھی جھوٹا ثابت ہوتا ہے جو یسعیاہ نبی پر نازل ہوا اور جس کی بعض اور نبیوں نے بھی خبر دی تھی۔پس ثابت ہوا کہ مسیح نے وہ قربانی نہیں کی جو کفارہ ماننے والے اس کی طرف منسوب کرتے ہیں اور نہ وہ کفارہ ہوا۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ جو واقعہ ہوا کیا وہ اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ مسیح زندہ قبر میں جائے گا زندہ قبر میں رہے گا اور زندہ قبر میں سے نکلے گا یا وہ اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ مسیح قبر میں مردہ گیا۔مردہ ہونے کی حالت میں ہی رہا اور پھر دوبارہ زندہ ہو کر باہر نکلا۔میں اس غرض کے لئے چند بڑی بڑی باتیں بیان کرتا ہوں۔جن سے واضح ہو جاتا ہے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا۔پہلی چیز تو یہ ہے کہ مسیح جس حاکم کے سامنے پیش کیا گیا وہ حاکم مسیح کا خیر خواہ تھا (لوقا باب ۲۳ آیت ۱ تا ۲۳)اور مسیح کے بعض ماننے والوں کا دوست تھا۔مسیح کے ماننے والے جو ابھی ظاہر میں حواری نہیں بنے تھے لیکن دل سے آپ پر ایمان لا چکے تھے ان میں ایک یوسف آرمیتیا بھی تھا۔انجیل سے پتہ لگتا ہے کہ یوسف آرمیتیا بوجہ اس کے کہ یہودیوں میں بڑا معزز اور مالدار انسان تھا پیلا طوس کا دوست تھا(لوقا باب ۲۳ آیت ۵۰،۵۱)۔جب مسیح پیلاطوس کے سامنے پیش ہوئے تو پیلا طوس نے بار بار کوشش کی کہ کسی طرح وہ مسیح کو چھوڑ دے۔اس بارہ میں اس نے جو تدابیر کیںان میں سے ایک تدبیر یہ تھی کہ جس دن وہ پیش ہوئے وہ جمعہ کا دن تھا (لوقا باب ۲۳ آیت ۵۴)اور جمعہ کے ساتھ ہی سبت کا دن آتا تھا۔جو یہودیوں کا ایک مقدس تہوار ہے مگر اس دن ایک اور خاص تہوار بھی تھا جس میں رومی حکومت یہود کو خوش کرنے کے لئے ایک قیدی چھوڑا کرتی تھی تاکہ یہودیہ سمجھیں کہ حکومت مذہب کا احترام کرتی ہے اور اس کا دل ان کے مذہب سے متاثر ہے۔اس تقریب کی وجہ سے پیلا طوس نے یہ کوشش کی کہ وہ حضرت مسیح کو یہ کہہ کر ہم نے کوئی نہ کوئی قیدی تو چھوڑنا ہی ہے چلو اسے ہی چھوڑ دیں آپ کو رہا کر دے۔مگر یہودیوں نے کہا کہ ہم اس تجویز کو نہیں مان سکتے فلاں ڈاکو کو بے شک چھوڑ دیا جائے مگر مسیح کو نہ چھوڑا جائے ( متی باب ۲۷ آیت ۲۱و ۲۲) اس