تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 128

یہ تین باتیں ہیں جو ان حوالوں سے نکل آتی ہیں اول یہود کے ملک سے باہر کچھ یہودی قبائل ہیں جن تک مسیح اپنا پیغام پہنچائے گا۔دوسرے وہ لوگ اس کی بات سنیں گے اور اسے مان لیں گے۔تیسرے مسیح کا ان لوگوں تک جانا کوئی اختیاری بات نہیں۔بلکہ ان کا وہاں جانا اور پیغام پہنچانا ایک ضروری امر ہے۔ا ن تین نتیجوں کو یوناہ نبی کی پیشگوئی سے ملا لوتو ایک ہی بات بن جاتی ہے۔یوناہ نبی کو بھی ایک غیر ملک کی طرف بھجوایا گیا تھا چنانچہ واقعات پڑھ کر دیکھ لو۔یوناہ نینوہ کی مملکت میں نہیں رہتے تھے۔انہیں الہام ہوا کہ جائو اور نینوہ والوں کو ہمارا پیغام پہنچائو جو مشرق کی طرف ہے۔اسی طرح مسیح کو حکم دیا گیا کہ وہ مشرق کی طرف ایک غیر ملک میں جائیں اور انہیں پیغام پہنچائیں۔دوسرے یوناہ نبی کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو خدا تعالیٰ نے جبری طور پر وہاں بھجوایاورنہ وہ تو وہاں سے بھاگے تھے اور چاہتے تھے کہ نینوہ نہ جائیں لیکن خدا تعالیٰ نے جبر کر کے یوناہ کو وہاں بھجوا دیا۔اسی طرح پیشگوئی بتاتی تھی کہ حضرت مسیح کو بھی اللہ تعالیٰ جبر اً اپنے ملک سے نکال کر ایک غیر ملک میں لے جائے گااور ان کے ذریعہ اپنا پیغام یہود کی گمشدہ بھیڑوں تک پہنچائے گا۔(۳) جب وہ وہاں جائیں گے تو لوگ ان کو قبول کرلیںگے اور ان کے دعویٰ پر ایمان لائیں گے۔یوناہ نبی کے ساتھ جوو اقعہ ہوا وہ اسی طرح ہوا کہ وہ مچھلی کے پیٹ میں گئے۔تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہے۔پھر مچھلی نے ان کو خشکی پر اگلا۔اور جب وہ اچھے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں کہا کہ جائو اور نینوہ والوں کو ہمارا پیغام پہنچائو۔اس طرح یہ بات ان کی سمجھ میں آ گئی کہ میں کتنا بھی بھاگوں بہرحال خدا تعالیٰ کی بات مجھے ماننی پڑے گی چنانچہ وہ واپس آئے اور انہوں نے نینوہ والوں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا پہلے تو انہوں نے معمولی سا انکار کیا۔مگر جونہی عذاب کے آثار ظاہر ہوئے انہوں نے مان لیا۔غرض ان حوالوں کو جب ہم یوناہ نبی کی پیشگوئی کے حوالہ سے ملا کر دیکھتے ہیںتو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یوناہ نبی والا معجزہ جو حضرت مسیح نے دکھانا تھا وہ مسیح کے زندہ قبر میں جانے ، زندہ قبر میں رہنے اور زندہ قبر میں سے نکلنے پر ہی مشتمل نہیں تھا۔بلکہ اس میں یہ چوتھی بات بھی بتائی گئی تھی اور یہی اہم بات تھی کہ مسیح کو خدا تعالیٰ یوناہ نبی کی طرح ان اسرائیلی قبائل کی طرف لے جائے گا جو کھوئے گئے تھے۔اور وہ ان کو خدا کا کلام سنا ئے گا اور وہ لوگ اس کی باتیں مانیں گے اور یہ ایک ایسا نشان ہوگا جسے اسرائیل کی گمشدہ بھیڑیںدیکھیں گی۔جیسے نینوہ کے لوگوں نے نشان دیکھا تھا۔اب دیکھ لو مسیح کے ساتھ جو حالات گزرے ہیں وہ بھی بالکل اسی طرح تھے مسیح فلسطین میں پیدا ہوا اور اس کی بولی عبرانی تھی۔اس کی ماں بھی فلسطین میں موجود تھی اور اس کا جو باپ کہلاتا تھا وہ بھی وہیں موجود تھا۔اسی طرح باپ