تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 110
ہیں اور ہم کہیں کہ یہ تو تمثیلی کلام تھا تم نے خواہ مخواہ اسے حقیقی شیر سمجھ لیا تو اس کے بعد ہمارے لئے یہ جائز نہیں ہو سکتا کہ ہم اسے حقیقی شیر ہی کہتے پھریں۔اسی طرح اگر یہ تمثیلی کلام ہے تو عیسائیوں کو ماننا پڑے گا کہ مسیح کو ابن اللہ بھی تمثیلی طور پر کہا گیا تھا اور اگر وہ تمثیلی طور پر ابن اللہ تھا تو پھر نہ وہ لوگوں کے گناہ اٹھا سکتا تھا اور نہ ڈیڑھ دن دوزخ میں رہ سکتا تھا یہ ساری کی ساری باتیں ہی باطل اور بے حقیقت ہو کر رہ جاتی ہیں۔اب ہم اس سوال کی طرف آتے ہیں کہ عیسائیوں کی ساری باتیں مان لینے کے باوجود کہ کفارہ بھی کوئی ممکن چیز ہے اور مسیح ابن اللہ تھا کیا یہ بات ثابت ہے کہ وہ قربانی مسیح نے پیش کر دی تھی جسے کفار ے کا موجب کہا جاتا ہے؟ انجیل کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا جواب نفی میں ہے مسیح ؑ نہ تو صلیب پر لٹک کر مرا اور نہ اس نے وہ قربانی پیش کی جسے کفار ے کا موجب قرار دیا جاتا ہے۔مسیح ؑکا صلیب پر سے زندہ اتر آنا در حقیقت ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں عیسائیت کی موت ہے۔اگر مسیح ؑصلیب پر سے زندہ اتر آئے تھے تو عیسائیت کلی طو رپر ختم ہو جاتی ہے اور اگر مسیح صلیب کے واقعہ کے بعد اپنی طبعی موت مر گئے تھے تو وہ غلط عقائد جو غیر احمدیوں میں پھیلے ہوئے ہیں سب کے سب ختم ہو جاتے ہیں گویا مسیح کا صلیب پر سے زندہ اتر آنا عیسائیت کو ختم کر دیتا ہے اور مسیح کا طبعی موت مرجانا اسلام سے الحاد کو ختم کر دیتا ہے۔اگر عیسائیت مر جاتی ہے تو اس میں بھی اسلام کی زندگی ہے اور اگر الحاد مٹ جاتا ہے تواس میںبھی اسلام کی زندگی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ دونوں کارنامے سر انجام دئیے ہیں۔آپ نے مسیح کو صلیبی موت سے بچا کر ایک طرف مسیح کو لعنت سے بچایا اور دوسری طرف عیسائیت کو مار دیا۔ادھر مسیح ؑکی طبعی موت ثابت کر کے اسلام کو الحاد سے بچا لیا کیونکہ ایک ایسا نبی جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض حاصل نہیں کیا۔جس نے آپؐ کے دین سے استفادہ نہیں کیا۔جس نے آپؐ کے باغ سے خوشہ چینی نہیں کی اس کا اسلام میں آنا اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہ صرف ہتک ہے بلکہ ان کے کام کو بالکل ختم کر دیتا ہے پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دو حملے کر کے عیسائیت اور الحاد دونوں کو ختم کر دیا۔ایک دفعہ آپ نے مسیح ؑ کو زندہ کر کے عیسائیت کو ختم کیا اور دوسری دفعہ آپ نے مسیح کو مار کر اسلام سے الحاد کو ختم کیا۔یہ اتنے بڑے کارنامے ہیں جو رہتی دنیا تک یادگار رہیں گے۔مگر افسوس ہے کہ نہ ابھی تک ہماری جماعت نے ان کارناموں کی طرف توجہ کی ہے اور نہ ان کی اہمیت کو پوری طرح سمجھا ہے۔باقی باتیں کہ مسیح ؑ واقعہ صلیب کے بعد کہاں گیا یہ ضمنی دلائل ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پیش کئے ہیں۔اصل چیز مسیح کا صلیب سے زندہ اتر آنا ہے۔اگر وہ صلیب پر سے زندہ