تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 109
پھر یہ بھی سوال ہے کہ دوزخ میں گیا کون تھا ابن آدم گیا تھا یا ابن اللہ گیاتھا؟اگر ابن آدم گیا تھا تو سمجھ میں آسکتا ہے کہ ابن آدم کی روح چونکہ بہرحال جسم سے پیدا ہوتی ہے اور وہ جسم کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔اس لئے اس کی روح دوزخ میں چلی گئی لیکن وہاں تو کوئی اور روح تھی ہی نہیں جسم بے شک انسان کا تھا لیکن اس میں ابن اللہ تھا اور ابن اللہ اگر جسم کی قید سے آزاد ہوجائے تو اسی وقت خدا بن جاتا ہے۔و ہ اسی وقت تک ابن آدم کہلاسکتا ہے جب تک وہ جسم کی قید میں ہے جب وہ اس جسم کی قید سے آزاد ہو جائے تو وہ اسی وقت ابن اللہ بن جاتا ہے اور جب وہ ابن اللہ ہو گیا تو اس کی حالت خدا کی سی ہو گئی اور جب اس کی حالت خدا والی ہو گی تو اس کے دوزخ میں جانے کے کوئی معنے ہی نہیں۔کیا خدا کو بھی سردی گرمی لگتی ہے یا وہ بھی سردی سے آرام اور گرمی سے تکلیف محسوس کرتا ہے؟ انسان کی روح تو اگر دوزخ میں جائے گی تو وہ گرمی محسوس کرے گی۔سرد مقام پر رکھی جائے گی تو سردی محسوس کرے گی مگر ابن اللہ جو خدا ہے اس کے لئے سردی اور گرمی کا کیا سوال ہے۔دوزخ بھی اس کی پیدائش ہے اور جنت بھی اس کی پیدائش ہے نہ دوزخ اسے تکلیف پہنچا سکتی ہے او رنہ جنت اسے آرام پہنچا سکتی ہے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دوزخ میں اپنا پائوں ڈالے گا اور وہ ٹھنڈی ہوجائے گی کیونکہ خدا تعالیٰ کے لئے دوزخ کوئی چیز ہی نہیں۔پس اگر مسیح ابن آدم تھا اور اس میں انسانی روح تھی تو دوزخ میں خدا نہیں گیا بلکہ انسان گیا اور اگر اس میں ابن اللہ کی روح تھی تو جونہی اس کی روح جسم کی قید سے آزاد ہوئی وہ فوراً خدا کی طرح ہو گئی اور جب وہ خدا کی طرح ہو گئی تو اب خواہ اسے دوزخ میں بھی لے جائواسے کوئی تکلیف نہیں ہو سکتی۔آخر مسیح کی کوئی دو روحیں تو تھی نہیں کہ کہا جائے ایک اس میں آدمی کی روح تھی اور ایک خدا کی روح تھی۔اس میں ایک ہی روح تھی جو ابن اللہ کی تھی اور جب وہ روح جسم کی قید سے آزاد ہوگئی تو اس کے لئے دوزخ ، دوزخ ہی نہ رہا۔پھر اگر اس کو دوزخ میں بھی لے جائو تو وہاں اس کا جانا اس کے لئے کسی عذاب کا موجب نہیں ہو سکتا۔کیونکہ وہ مادی احساسات سے بالا ہے نہ اس پر دوزخ اثر کرتی ہے نہ جنت۔عیسائی بعض دفعہ گھبرا کر یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ سب تمثیلی کلام ہے تم خواہ مخواہ اسے حقیقت پر محمول کرتے ہو۔ہم کہتے ہیں اگر یہ تمثیلی کلام ہے تو تمثیلی کلام سے نئے نئے مسئلے نہیںنکلا کرتے۔اس صورت میں بھی کفارہ باطل ثابت ہو جاتا ہے۔کیونکہ جب تم حقیقت بیان نہیں کر رہے بلکہ تمثیل بیان کر رہے ہو۔تو اس سے عجیب و غریب مسائل نکالنا اور ان پر ایمان لانے کی لوگوں کو دعوت دینا تمہارے لئے جائز نہیں ہوسکتا۔مثلاً اگر ہم کسی شخص کے متعلق یہ کہیں کہ وہ سچ مچ شیر ہے اور جب کوئی شخص ہم سے پوچھے کہ اس کی دم کہاں ہے یا اس کے پنجے وغیرہ کہاں