تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 66
الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ ظَالِمِيْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا (ان پر)جن کی روحوں کو فرشتے (عین )اس وقت کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کررہے ہوتے ہیں نکالتے ہیں۔تووہ(یہ السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا کہہ کر)صلح کی طرح ڈالتے ہیں(کہ)ہم (تو)کوئی بھی برائی(کاکام ) نہیں کیاکرتے تھے (سوانہیں کہا جائےگا کہ كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۰۰۲۹ واقعہ)یوں نہیں بلکہ (اس کے برعکس ہے۔یاد رکھو)جوکچھ تم کرتے تھے اُسے اللہ (تعالیٰ)یقیناًخوب جانتاہے حل لغات۔السَّلَمُ۔اَلْاِسْمُ مِنَ التَّسْلِیْمِ بِمَعْنَی السَّلَام۔باب تفعیل سے اسم مصدر ہے اور اس کے معنے وہی ہیں جوسلام کے ہیں یعنی سلامتی۔صلح۔نیز اس کے معنے ہیں۔اَلْاِسْتَسْلَامُ۔تابعداری۔فرمانبرداری۔(اقرب) بَلیٰ:جَوَابٌ لِلتَّحْقِیْقِ تُوْجِبُ مَایُقَالُ لَکَ لِاَنَّھَاتَرْکٌ لِلنَّفْیِ فَاِذَاقُلْتَ لِزَیْدٍ لَیْسَ عِنْدَکَ کِتَابٌ فَقَالَ بَلٰی لَزِمَہُ الْکِتٰبُ واِنْ قَالَ نَعَمْ فَلَایَلْزَمُہُ۔یعنی یہ نفی کے بعد آتا ہے۔لیکن معنوں کو مثبت کردیتاہے جیسے کوئی کسی کوکہے کہ تیرے پاس کتاب نہیں۔توجواب میں وہ بَلٰی کالفظ کہے۔تواس کے معنے یہ ہوں گےکہ کیوں نہیں ؟میرے پاس کتاب ہے۔لیکن اگرجواب میں نعَمْ کالفظ کہے۔تومعنے ہوں گے کہ میرے پاس کتاب نہیں۔(اقرب) تفسیر۔ظَالِمِيْۤ اَنْفُسِهِمْکہہ کر کفار کو مجرم قرار دیا گیا ہے اس آیت میںبتایاکہ یہ عذاب ان کفار پر آئے گاجو مو ت تک کفرپر قائم رہیں گے۔ظَالِمِيْۤ اَنْفُسِهِمْ کہہ کر بتایاکہ ایسے لوگوں کی ساری عمر اپنی جانوں پر ظلم کرنے میں گذر جاتی ہے اوروہ سمجھتے یہ رہتے ہیں کہ وہ نبیوں پر ظلم توڑ رہے ہیں۔گویا ان کی مثال اس درندہ کی سی ہوتی ہے جوپتھر کو چاٹتاہے اوراس کی زبان سے خون بہنے لگتاہے۔مگر خون کی لذت کو پتھر کامزاسمجھ کر وہ اس کے چاٹنے میں لگارہتاہے۔یہاں تک کہ اس کی ساری زبان ہی گھس جاتی ہے۔صلح کو سلم کہے جانے کی وجہ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ۔سَلَمَ کے معنے صلح کے ہیں اورصلح کو سلم اس لئے کہتے ہیں کہ