تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 65

کہ اس شعر میں اِسے لایاگیا ہے۔وَلَقَدْ اَمُرُّعَلَی اللَّئِیْمِ یَسُبُّنِیْ فَمضَیْتُ ثُمَّتَ قُلْتُ لَایَعْنِیْنِیْ (اقرب) یَوْمٌ کے لئے دیکھو یونس آیت نمبر ۴۔اَیَّامٌ یَوْمٌ کی جمع ہے۔اَلْیَوْمُ مِنْ طُلُوْعِ الْفَجْرِ اِلٰی غُرُوْبِ الشَّمْسِ۔دن کا وقت۔اَلْوَقْتُ مُطْلَقًا۔مطلق وقت جو بھی اور جتنا بھی ہو (اقرب) یُخْزِیْھِمْ:یُخْزِیْ اَخْزٰی سے مضارع مذکر غائب کاصیغہ ہے۔اوراَخْزَاہُ کے معنے ہیں اَوْقَعَہٗ فِی الْخِزْیِ اَوِلْخِزَایَۃِ وَاَھَانَہٗ۔اس کو کسی ایسی بات میں پھنسایاجس سے اُسے ندامت ہواوراس طرح سے اُسے ذلیل کیا۔اَخَزَی اللہُ فُلَانًا کے معنے ہیں فَضَحَہٗ۔اللہ تعالیٰ نے اس کے عیوب کوظاہر کردیا۔اوراس طرح وہ رسواہوگیا (اقرب) پس یُخْزِیْھِمْ کے معنے ہوں گے ان کے عیوب کو ظاہرکرکے اللہ تعالیٰ انہیں رسواکرے گا۔تُشَاقُّوْنَ:تُشَاقُّوْنَ شَاقَّ سے مضارع جمع مذکر مخاطب کاصیغہ ہے اور شَاقَّہٗ کے معنے ہیں خَالَفَہٗ۔اس سے ناموافقت کی۔عَادَاہٗ۔اس سے دشمنی کی (اقرب)پس کُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ کے معنے ہوں گے (۱)تم مخالفت کرتے تھے (۲)تم دشمنی کرتے تھے۔اَلْخِزْیُکے اصل معنے ایسی ذات کے ہیں جولوگوں کے سامنے شرمندگی کا موجب ہو۔مزید تشریح کے لئے دیکھو یونس آیت نمبر ۹۹۔اَلْخِزْیُ الْھُوَانُ ذلت۔ذلیل و حقیر ہونا۔اَلْعِقَابُ۔سزا۔اَلْبُعْدُ دوری۔اَلنَّدَامَۃُ شرمندگی، پچتانا۔واَصْلُ الْخِزْیِ ذِلٌّ یُسْتَحْیٰ مِنْہُ اس کے اصل معنی ایسی ذلت کے ہیں جو لوگوں کے سامنے شرمندگی کا موجب ہو۔(اقرب) تفسیر۔آنحضرت ؐ کے مخالفین پر رسوائی اور ہلاکت کے دونوں عذاب بعض دفعہ ایساہوتاہے کہ کسی انسان پر آفت آتی ہے مگروہ رسوائی کاموجب نہیں ہوتی۔اوربعض دفعہ رسوائی توہوتی ہے مگرہلاکت اس کے ساتھ نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں پر جب عذاب آئے گاتواس میں دونوں باتیں شامل ہوں گی تباہی بھی اوررسوائی بھی۔