تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 63
کایہ اعتراض پہلے بیان ہواہے کہ یہ مدعی کوئی نئی تعلیم تونہیں لایا۔پہلے لوگوں کی باتوں کو نقل کررہا ہے۔اس آیت میں ان کا اعتراض انہی کے متعلق دُہرادیا اورفرمایاکہ یہ سچ ہے کہ یہ نبی بہت سی باتیں وہ بیان کرتا ہے جوپہلے نبیوں نے بھی کہی ہیں۔اور تم ان کو نقل کہتے ہو۔مگر اپنا حال نہیں دیکھتے کہ تم بھی پہلے نبیوں کے دشمنوں کی نقل کررہے ہو اورویسی ہی شرارتیں کررہے ہو جیسی کہ پہلے نبیوں کے دشمن کیاکرتے تھے۔اگر اس نبی کاکلام پہلے لوگوں کی نقل ہے تووہ اچھی نقل ہے۔مگر تمہار ے کام بھی نقل ہیں اوربُرے لوگوں کی نقل ہیں۔نبی کی نقل اور کفار کی نقل میں فرق پس نقل کہہ کر بھی توتم اعتراض سے نہیں بچ سکتے۔کیونکہ یہ توان کی نقل کرتاہے جوآخر کامیاب ہوئے اور تم ان کی نقل کررہے ہو جو آخر ہلاک ہوئے۔پس اگر دونوں طرف سے نقل ہورہی ہے توبھی تم ہی خسارہ میں رہتے ہو۔کیونکہ تباہ ہونے والوں کی نقل کررہے ہو۔چنانچہ ان لوگوں کاحال بتاتا ہے جن کی کفار نقل کررہے تھے۔اورفرماتا ہے کہ تمہاری ہی طرح پہلے انبیاء کے دشمن بھی لوگوں کو نبیوں کے خلاف یہ کہہ کربھڑکایاکرتے تھے کہ یہ نقال ہیں۔مگر کیا اس اعتراض یا ایسے ہی اوراعتراضوں سے وہ نبیوں کی تعلیم کے پھیلنے میں کوئی کامیاب روک پیداکرسکے۔کیااس طرح وہ نبیوں کے تباہ کرنے میں کامیاب ہوسکے؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ خود ہی تباہ ہوئے۔ائمۃ الکفر کو لوگوں کو دھوکہ دے کر نبیوں کی تعلیم سے ناواقف رکھنے کی سزا پھر ان کے عذاب کی نوعیت بتائی کہ تباہی بھی معمولی تباہی نہ تھی بلکہ اَتَیْ اللّٰہُ بُنْیَانَھُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّعَلَیْھِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِہِمْ۔یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اس طرح عذاب نازل کیا کہ ان کی خود ساختہ عمارتوں کی بنیادوں کواُکھاڑ پھینکا اوردیواروں کے ساتھ چھتیں بھی گر گئیں۔یعنی نہ توابع رہے نہ افسر سب ہی ہلاک ہوئے اور وہی دیواریںیعنی توابع جن پرانہیں ناز تھا اس طرح اوندھے منہ گرے کہ اپنے ساتھ اپنے سرداروں کو بھی لے گرے۔پس عوام الناس پر جو تم کو اثر حاصل ہے اس پرمغرور نہ ہوکہ جب خدا تعالیٰ کا عذاب آتاہے تویہ حکومت دھری رہ جاتی ہے اورخدا تعالیٰ کفار کے سارے نظام کو تباہ کردیتا ہے اورافسر اورماتحت سب ہی گرتے ہیں۔بلکہ توابع ہی سرداروں کی تباہی اورہلاکت کاموجب ہوجاتے ہیں۔پھر بتایاکہ یہ عذاب ہمیشہ غیر معمولی طریق سے آتے رہے ہیں۔حتٰی کہ ائمہء کفرکو علم بھی نہ ہوتاتھا کہ عذا ب آرہاہے اورعذاب آجاتاتھا۔اورایسی راہوں سے آتاتھا۔جن کا انہیں وہم اورگمان تک نہ ہوتاتھا۔اللہ کے منکروں کے پاس آنے سے مراد عذاب کا آنا ہوتا ہے اَتَی اللہُ۔اللہ تعالیٰ کے منکروں کے