تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 64

پاس آنے کے معنے ہمیشہ عذاب کے ہوتے ہیں۔بہائیوں کا اَتَی اللہُ سے غلط استدلال اور اس کا جواب بہائیوں نے اسی قسم کی آیات پیش کرکے کہاہے کہ دیکھو قرآن کریم میں لکھاہے کہ خداخود آئے گا۔اس سے مراد بہاء اللہ کاظہو رہے۔حالانکہ یہ معنے قرآنی محاورہ کے سراسرخلاف ہیں۔جیساکہ یہ آیت صاف ظاہرکررہی ہے۔ہاں اگربہاء اللہ کو اس زمانہ کے لوگوں کے لئے ایک عذاب سمجھاجائے توان کو بھی اللہ کی آمد کا عذابی ظہور ماننے میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ دین سے غافلوں کو اورزیادہ غفلت کے سامان پیداکرکے عذاب دیاکر تاہے۔اس آیت میں اہل مکہ کو ان کی عمارت کے انہدام کا انتباہ اس آیت میں اہل مکہ کو گذشتہ واقعات کاحوالہ دے کر ہوشیار کیا گیا ہے کہ اب تمہارانظام کھوکھلاہوچکاہے۔اب تووہ خود ہی گرنے کو تیار کھڑاہے۔تم نے محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نظام کو کیا تباہ کرنا ہے تمہارے دیکھتے دیکھتے تمہاری عمارت دیوار وں اور چھتوں سمیت زمین پرآرہے گی۔تاریخ دان جانتے ہیں کہ فتح مکہ سے پہلے آخری دن تک کفار غالب معلوم ہوتے تھے لیکن یکدم ان کی عمارت پیوند خاک ہوگئی۔ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يُخْزِيْهِمْ وَ يَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَآءِيَ پھر وہ قیامت کے دن (دوبارہ )انہیں رسواکرے گااورکہےگا(کہ اب )کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کی وجہ سے الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِيْهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا تم (میرے انبیاء سے)دشمنی (اورمخالفت )رکھتے تھے۔(اور)جنہیں علم دیاگیاہوگا وہ (اس وقت)کہیں گے کہ الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْيَ الْيَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِيْنَۙ۰۰۲۸ آج کافروں پر یقیناًرسوائی اورمصیبت(آنے والی)ہے۔حل لغات۔ثُمَّ:حرف عطف ہے جوترتیب اورتراخی کے لئے آتاہے۔یعنی یہ ظاہرکرتا ہے کہ معطوف اپنے معطوف علیہ کے بعد ترتیباًاور کچھ دیر بعد واقع ہواہے (اردوزبان میں اس مفہوم کو اداکرنے کے لئے پھر ،تب،بعد ازاں کے الفاظ استعمال کرتے ہیں ) اوربعض اوقات ثُمَّ کے آخر میں تاء بھی لے آتے ہیں۔جیسے