تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 59
تفسیر۔انکار بعث سے جہالت میں پڑنے والوں کی سزا توحید کا تکبر سے انکار کرنے والوں سے کم ہوگی فرمایا جس طرح اوپر بیان کئے گئے دلائل سے ایک خدا کا ثبوت ملتا ہے اس کے عالم الغیب ہونے کاثبوت بھی ملتاہے۔پس اللہ تعالیٰ جو ان کے ظاہرو باطن کو جانتاہےوہ ان کو ان کے اعمال کی ضرور سزادے گا۔ہاں وہ یہ فرق ضرورکرے گاکہ جو لوگ انکار بعث کی وجہ سے جہالت میں مبتلاہوگئے ان کی سز اان لوگوںسے کم ہوگی جو توحید کو سمجھتے توہیں۔مگر تکبر کی وجہ سے انکار کرتے ہیں۔اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُسْتَکْبِرِیْنَ کے الفاظ سے اسی طرف اشار ہ کیا گیا ہے کہ جولوگ جان بوجھ کر انکارکرتے ہیں و ہ زیاد ہ سزاکے مستحق ہوں گے۔وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَسَاطِيْرُ اورجب ان سے کہاجاتاہے (کہ)وہ (کلام )جوتمہارے رب نے اتار اہے کیا(ہی شاندار)ہے۔تووہ کہتے ہیں الْاَوَّلِيْنَۙ۰۰۲۵ (کہ) یہ (خدا تعالیٰ کاکلام نہیں بلکہ)پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔حلّ لُغَات۔اَسَاطِیْرُ۔اَسَاطِیْرُ سَطَرَ سے بناہے۔اورسَطَرَ الْکَاتِبُ کے معنے ہیں کَتَبَ۔اس نے لکھا۔اورسَطَرَالرَّجُلَ کے معنے ہیں صَرَعَہٗ۔کسی کو کشتی میں گرالیا۔سَطَرہٗ بِالسَّیْفِ:قَطَعَہٗ بِہٖ۔اس کو تلوار سے کاٹ ڈالا۔اَلْاِسْطَارُ وَالْاُسْطَارُ وَالْاُسْطُوْرُ وَالْاُسْطِیْرُ:مَایُسْطَرُ اَیْ یُکْتَبُ وَتُسْتَعْمَلُ فی الْحَدِیْثِ لَا نِظَامَ لَہٗ۔یعنی اِسْطَارٌاور اُسْطَارٌ اُسْطُورٌاور اُسْطِیْرٌ کے معنے لکھی ہوئی چیز کے ہیں اور ایسی باتوں کو بھی کہتے ہیں جن میں کوئی نظام نہ ہو۔وَالْـحِکَایَاتُ اورقصے کہانیوں کو بھی کہتے ہیں۔اس کی جمع اَسَاطِیْر آتی ہے (اقرب) پس اَسَاطِیْرُالْاَوَّلِیْنَ کے معنے ہوں گے پہلے لوگوں کی تحریری حکایتیں یاکہانیا ں یابے جوڑ باتیں۔تفسیر۔منکرین توحید اور بعث بعد الموت کا قرآنی دلائل کے اثر کو مٹانے کا غلط طریق اس آیت سے پھر اصل مضمون کی طرف رجوع فرمایا اوربتایا کہ یہ منکرین توحید اوربعث بعد الموت جب ان دلائل کو سنتے ہیں تو بجائے غورکرنے کے کہہ دیتے ہیں کہ یہ کوئی نئی بات نہیں۔یہ توپہلے لوگوں کی باتوں کونقل کردیاگیا ہے۔اُسْطُوْرٌجس کی جمع اَسَاطِیْرُ ہے اس کے معنے کہانی کے بھی ہوتے ہیں اورکتاب کے بھی۔اورگودونوں معنے اس آیت میں چسپاں ہوسکتے ہیں۔مگر سیاق کو مدنظر رکھتے ہوئے کتاب کے معنے زیادہ چسپا ں ہوتے ہیں کیونکہ اس سورۃ