تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 617 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 617

بِمِثْلِهٖ مَدَدًا۰۰۱۱۰ اتنا(ہی )اور(پانی سمندرمیں ) لاڈالتے۔حل لغات۔مِدادًامِدَادًاکے معنے ہیں اَلنِّقْسُ۔سیاہی۔روشنائی (اقرب) تفسیر۔یعنی وہ لوگ دعوے کرتے ہیں کہ ہم نے یہ یہ ایجادات کی ہیںاوراتنے علوم دریافت کئے ہیں اورکائنات کاراز دریافت کر نے کے قریب ہیں۔فرماتا ہے۔اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم توان سے کہہ دے (یعنی اس زمانہ کے محمد رسول اللہ صلعم کے اتباع ان سے یوں کہہ دیں )کہ تمہارارازکائنات کودریافت کرنے کی کوشش کرنا ہمیشہ روزاول ہی رہے گااورباوجوداس قدر کوششوں کے تم کولہوکے بیل کی طرح وہیں کے وہیں کھڑے رہوگے اوروہ قوتیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں پیداکی ہیں۔ان میں سے اس قدربھی دریافت نہ کرسکو گے کہ جس قدرسمندر کے مقابل پر ایک قطرہ کی حیثیت ہوتی ہے۔اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ وہ تصانیف کا زمانہ ہوگااوریہ قومیں سائنس پرکثرت سے کتابیں لکھیں گی۔قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰۤى اِلَيَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ تو(انہیں )کہہ(کہ )میں صرف تمہار ی طرح کاایک بشرہوں (فرق صرف یہ ہے کہ )میری طرف (یہ)وحی وَّاحِدٌ١ۚ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا (نازل) کی جاتی ہے کہ تمہارامعبود ایک ہی (حقیقی)معبود ہے۔پس جو شخص اپنے رب سے ملنے کی امید رکھتاہو وَّ لَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًاؒ۰۰۱۱۱ اسے چاہیے کہ نیک (اورمناسب حال) کام کرے۔اوراپنے رب کی عبادت میں کسی کو (بھی)شریک نہ کرے تفسیر۔ان سب پیشگوئیوں اورعلوم غیبیہ کے بیان کرنے کے بعد فرماتا ہے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) توان سے کہہ دے کہ میں تواس قدرعلوم سماویہ کے بتانے کے بعد بھی نہیں کہتاکہ میں خدا کابیٹاہوں یاخدائی صفات