تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 616
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ جولوگ ایما ن لائے ہیں اورانہوں نے نیک(اورمناسب حال)عمل کئے ہیں ان کاٹھکانا یقیناً فردوس کے بہشت الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ۰۰۱۰۸خٰلِدِيْنَ فِيْهَا لَا يَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا۰۰۱۰۹ ہوںگے (وہ)ان (ہی)میں رہاکریں گے(اور)ان سے الگ ہونانہیں چاہیں گے۔حلّ لُغَات۔فِرْدَوْس فِرْدَوْسٌ کے معنے ہیں اَلْجَنَّۃُ الَّتِیْ تَنْبُتُ ضُرُوْبًا مِنَ النَّبْتِ۔وہ باغ جوکئی قسم کی نباتات اُگاتاہے۔اَلْبُسْتَانُ یَجْمَعُ کُلَّ مَایَکُوْنُ فِی الْبَسَاتِیْنَ۔و ہ باغ جس میں تمام وہ اشیاء ہوں جوباغوں میں ہوسکتی ہیں (اقرب) حِوَلًا اَلْحِوَلُ۔اَلزَّوَالُ وَالْاِنْتِقَالُ۔علیحدہ ہونا۔الگ ہونا۔(اقرب)پس لَا يَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا کے معنے ہوں گے۔کہ وہ اس سے علیحدہ ہونانہیں چاہیں گے۔تفسیر۔جب ان پرعذاب آئے گاتومومنوںکی ترقی کا وقت شروع ہوگااوان کے صبرکابدلہ ان کومل جائے گا اوراللہ تعالیٰ کے لئے اوراس کے دین کے لئے قربانیوںمیں ان کوایسی لذت محسوس ہوگی کہ باوجود مال اورجان کی قربانیو ں کے و ہ اپنی حالت کو بدلنا پسند نہ کریں گے بلکہ اس ’’ٹوٹی ہوئی سفینہ‘‘میں ہی سفرکرنے میں ساری لذت محسوس کریں گے اوراسے چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں گے۔قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ تو(انہیں )کہہ (کہ )اگر(ہرایک )سمندرمیرے رب کی باتوں(کے لکھنے )کے لئے روشنائی بن جاتا تومیرے اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيْ وَ لَوْ جِئْنَا رب کی باتوں کے ختم ہونے سے پہلے (ہرایک )سمندر(کاپانی)ختم ہوجاتا۔گو(اسے )زیادہ کرنے کے لئے ہم