تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 596 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 596

قُلْنَا يٰذَا الْقَرْنَيْنِ ہم نے ذوالقرنین کو نام لے کرپکاراہے۔پھرلکھا ہے میں نے تجھے مہربانی سے پکارا ہے پھر لکھا ہے کہ گوتومجھے نہیں جانتا۔اوریہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی پرستش تورات کے نامو ں سے نہیں کرتاتھا بلکہ دوسرے ناموں سے۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ وہ زردشت نبی کاپیروتھا۔خورس کی بزرگی کا ثبوت تاریخوں سے خورس کی بزرگی کاثبوت تمام تاریخوں سے ملتاہے۔اس کے بارہ میں لکھاہے کہ اس کے دشمن بھی اس سے محبت کرتے تھے۔بلکہ جب و ہ کسی حکومت پرحملہ کرتاتواس کی نیکی اوراس کے انصاف کی وجہ سے شہروالے دروازے کھو ل کر اس سے جاکر مل جاتے اوراپنے بادشاہ کو چھو ڑدیتے۔یسعیاہ نبی نے بھی اپناالہا م اس بارہ میں لکھا ہے جس کے یہ الفاظ ہیں۔’’خورس کے حق میں کہتا ہوں کہ یہ میراچرواہا ہے وہ میری ساری مرضی پوری کرے گا۔‘‘(باب ۴۴آیت ۲۸)اس کی نیکی اوراس کے اخلا ق کے متعلق مؤرخین نے جوآراء ظاہر کی ہیں وہ یہ ہیں :۔ہسٹورینز ہسٹری آف دی ورلڈ دی ہسٹری آف پرشیاجلد ۲ص۵۹۶ (HISTORIANS HISTORY OF THE WORLD )میں مشہور مورخ ڈینو فین کی رائے لکھی ہے کہ:۔’’میں نے ایک دفعہ انسانی فطرت پرغورکیااوراس نتیجہ پرپہنچاکہ انسان کے لئے اپنی فطرت کے مطابق دوسرے جانوروں پرحکومت کرناآسان ہے ،مگرانسان پرحکومت کرنامشکل ہے۔کیونکہ میں نے غورکیا کہ کتنے ہی آقاہیں جن کے گھر میں تھوڑے یازیاد ہ نوکر ہیںمگروہ اپنے نوکروں سے بھی اطاعت نہیں کرواسکتے۔پس اس سے میرایہی خیا ل ہواکہ ایساایک بھی آدمی نہیں جوانسان پرحکومت کرسکتاہو۔دوسرے جانداروں پر حکومت کرنے والے کئی ہیں۔مگریہ سوچتے سوچتے مجھے خورس بادشاہ کاخیال آیا جس نے میری رائے بدل دی اورمیں نے کہا کہ انسانوں پرحکومت کرنی مشکل نہیں۔میں نے دیکھاکہ بعض ایسے لوگ تھے جنہوں نے خوشی سے سائرس کی ماتحتی اختیار کی۔حالانکہ بعض ان میں سے ایسے تھے جواس سے دومہینے کی راہ پر بعض چار مہینے کی راہ پر تھے۔بعض ایسے بھی تھے جنہوں نے کبھی اسے دیکھاہی نہ تھا اورایسے بھی تھے جنہیں اسے دیکھنے کی توقع بھی نہ ہوسکتی تھی۔‘‘ پھر لکھا ہے ’’اس نے لوگوں کے دل میں ایک پرزورخواہش پیداکردی تھی کہ وہ اسے خوش رکھیں اورکہ وہ ہمیشہ ان پرحکومت کرتارہے اس نے اتنی قوموں پرحکومت کی کہ ان کی تعداد کاشمار مشکل ہے مشرق سے مغرب تک اس کی حکومت پھیلی ہوئی تھی۔‘‘ پھر اسی کتاب میں موجودہ زمانہ کے مؤرخین کی رائے کا یہ خلاصہ لکھاہے۔’’اگربڑائی انصاف کے لئے لڑنے بلکہ اس کے لئے جان دینے کے لئے تیاررہنے کانام ہے تووہ (یعنی