تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 597
خورس) بڑابادشاہ تھا۔‘‘ پھر لکھا ہے :۔’’و ہ محض اپنی ذات کے لئے کچھ نہ کرتاتھا۔وہ ایساتھاکہ جب میڈیا کی حکومت ،بابل کی حکومت اورمصر والوں نے اتفاق کرکے اس پرحملہ کیا توا س نے محض دفاع کی خاطرتلواراٹھائی۔سب سے بڑھ کریہ کہ و ہ رحم مجسم تھا۔اس کی ڈھال پرناجائز خون کاقطرہ نہ گراتھا۔نہ بھیانک انتقام یا ظلم سے اُس نے ہاتھ رنگے۔اس نے مقدونیہ والے بادشاہ کی طرح کبھی شہر نہیں جلائے۔اس نے دیگربادشاہوں کی طرح مغلوب بادشاہوں کے ہاتھ پائوں نہیں توڑے ا س نے یہودی بادشاہوں کی طرح کبھی دیواروں پر ان کو نہیں گھسیٹانہ اس نے رومیوں کی طرح مغلوب بادشاہوں کو پھانسی دی۔نہ اس نے یونانیو ںکے پاگل خداسکندر کی طرح خونریزی کی۔وہ بے شک ایشیائی تھا مگر وہ ایسے لوگوں میں سے تھا جواپنے زمانہ سے بہت پہلے پیداہوجاتے ہیں۔و ہ دوسرے انسانوں سے بہت نرم دل تھا۔و ہ اپنی قوم کے رواج اوردستورسے بہت آگے نکلا ہواتھا انسانی نسل کی انتہائی ترقی جوآئندہ ہونے والی تھی اس پروہ قائم تھا۔اس نے اپنی زبردست حکو مت کی بنیاد اس پر رکھی تھی کہ ملکوں کوفتح کرکے ان کے درجہ کوبڑھایاجائے اورمفتوحوںکو مساوی حقو ق دیئے جائیں۔ٹائرکاوہ شہر جس نے نبوکدنضر اورسکندرکے آگے بڑے بڑے محاصروں کے بعد اپنے آپ کوسپردکیا اس شہر نے اس کے جاتے ہی اپنی مرضی سے اپنے دروازے کھو ل دیئے۔‘‘پھرلکھا ہے کہ :۔’’سب سے بڑھ کر وہ چھوٹی قوم جو یہودی کہلاتی ہے اس نے بابل کے دریا پر اس کا اس طرح استقبال کیا کہ کسی فانی انسان کا استقبال اس نے اس جوش سے کبھی نہیں کیا۔‘‘ پھر لکھاہے:۔’’وہ اپنے زمانہ کی پیداوارنہ تھا۔بلکہ اس نے زمانہ کوپیدا کیا اوروہ اس کا باپ تھا۔و ہ تاریخ انسانی میں ایک منفرد اوربے مثل بادشاہ تھا۔‘‘(ہسٹورینز ہسٹر ی آف دی ورلڈ جلد ۲ص ۵۹۷تا۶۰۰) اب میں اس مضمون کولیتاہوں کہ وہ خدا تعالیٰ سے سچی خوابیں پانے کامدعی تھا۔اسی کتاب میں لکھا ہے کہ و ہ ایک دفعہ ایک مہم پرجارہاتھاکہ اس نے خواب دیکھا۔کہ داراؔجواس کارشتہ میں بھتیجاتھا۔اس کے دوپر نکلے ہیں ایک یورپ پر پھیلاہواہے اوردوسراایشیا پر۔اس نے صبح ا س کے با پ کوبلایا جواس کے ساتھ تھااوراسے کہا تمہارالڑکامعلوم ہوتاہے میرے خلاف سازش کررہاہے۔پھراس نے کہا کہ میں اس یقین کی