تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 595 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 595

ذوالقرنین کہلانے کامستحق ہے اس میں یہ باتیں پائی جاتی ہیں یانہیں۔خصوصاً ا س امر کو کہ وہ صاحب الہام اور خدا تعالیٰ کامقبول بھی ہے یا نہیں۔یہ امرتوپہلے طے ہوچکا ہے کہ میداورفارس کے بادشاہوں میں سے ہی کوئی بادشاہ یہاں مراد ہے کیونکہ دانیا ل کی رؤیا نے ان ہی کو ذوالقرنین کانام دیاہے ہم نے دیکھنایہ ہے کہ ان میں سے کونسا بادشاہ یہ صفات اپنے اندر رکھتا ہے۔ذوالقرنین سے مراد خورس شاہ ایران ہے سب سے اول اوراہم صفت الہام کی صفت ہے۔اس بار ہ میں ہم تاریخ کودیکھتے ہیں توفارس کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ ہم کوایساملتاہے کہ جسے الہام ہوتاتھا اورجس کی نیکی اورتقویٰ کی تعریف ہم کو دوسرے انبیاء کے کلام سے بھی ملتی ہے اوریہ بادشا ہ خورس ہے جسے انگریزی میں CYRUS لکھتے ہیں۔یسعیاہ نبی اس بار ہ میں لکھتے ہیں :۔خورس ملہم تھا ’’خداوند اپنے مسیح خورس کے حق میں یوں فرماتا ہے کہ میں نے اس کاداہناہاتھ پکڑاکہ امتوں کو اس کے قابومیں کروں اوربادشاہوں کی کمریں کھلواڈالوں اوردہرائے ہوئے درواز ے اس کے لئے کھول دوں اوروہ درواز ے بندنہ کئے جائیںگے میں تیرے آگے چلو ں گااورٹیڑھی جگہوں کوسیدھا کروں گامیں پیتل کے دروازو ں کے جداجداپُلوں کوٹکڑے ٹکڑے کروں گااورلوہے کے بینڈوں کو کاٹ ڈالوں گااورمیں گڑے ہوئے خزانے اورپوشیدہ مکانوں کے گنج تجھے دوں گاتاکہ توجانے کہ میں خداوند اسرائیل کا خداہوں جس نے تیرانام لے کے بلایا ہے میں نے اپنے بندے یعقوب اوراپنے برگزیدے اسرائیل کے لئے تجھے تیرانام صاف صاف لے کے بلایا۔میں نے تجھے مہربانی سے پکاراگو کہ تومجھ کونہیں جانتا۔‘‘(یسعیاہ باب ۴۵ آیت ۱تا۴) یسعیاہ نبی کے اس کلام سے ظاہر ہوتاہے کہ خورس نامی میداورفارس کابادشاہ خدا تعالیٰ کی طرف سے برکت دیا گیا کیونکہ اسے مسیح کہاگیاہے (یہ حقیقت یاد رکھنے کے قابل ہے کہ خورس کوجوذوالقرنین تھا مسیح کہا گیا ہے اور مسیح موعودکو ذوالقرنین )پھر لکھا ہے کہ اسے حکومت اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے دی تھی۔یہی قرآن کریم ذوالقرنین کی نسبت فرماتا ہے اِنَّا مَکَّنَّا لَہٗ فِی الْاَرْضِ وَاٰتَیْنٰہُ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ سَبَبًا۔ہم نے اسے بادشاہت د ی تھی اورہرضروری امرکوحاصل کرنے کے ذرائع بخشے تھے اسی طرح لکھا ہے کہ میں تیرے آگے چلوں گااورتیر ی ٹیڑھی جگہوں کوسیدھا کرو ںگا۔جس سے اشارہ ہے کہ و ہ بہت سفر کرے گا۔یعنی قرآن کریم سے ظاہرہوتاہے۔پھریسعیاہ کے الہام میں ہے کہ میں خداوند اسرائیل کا خداہوں جس نے تجھے نام لے کے بلایاہے۔قرآن کریم میں بھی آتاہے