تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 573
ہی شامل ہیں کہ وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ يَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ (یٰس :۴۸) یعنی جب لوگوں کو محمدرسول اللہ یہ تعلیم دیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے جوتم کومال دیا ہے وہ صرف تمہارے لئے نہیں ہے سب دنیاکے لئے ہے۔اسے اللہ تعالیٰ کے غریب بندوں پر خرچ کرو۔تووہ آگے سے مسلمانوںسے کہتے ہیں کہ کیا خدا تعالیٰ خود ان کو نہیں کھلا سکتا۔پھر جب خدا نے باوجود بڑے خزانوںکے ان کو نہیں کھلایا۔توہم کس طرح ان کو اپنے اموال میں سے حصہ دیں۔اورپھر یہ کہ کفار مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تم تو بڑے ہی بے راہ ہو کہ اس طرح اپنے اموال کو تباہ کرتے ہو۔پس یہ اعتراضات اسلام کی تعلیم پریہود اور دوسرے کفار کی طرف سے بکثرت ہوتے رہے ہیںاورآج تک ہورہے ہیں۔لیکن خدا کاعاشق ٹوٹی ہوئی کشتی میں ہی اس دنیاکاسفر کرنازیاد ہ پسند کرتاہے بہ نسبت اس سلامت کشتی کے جو ا س کے دل سے خدا تعالیٰ کی یاد کو بھلادے۔نصارٰی کے لئے مالی قربانی ابتلاء نصاریٰ کے لئے یہ ابتلاء سب سے زیادہ ہے کیونکہ وہ زیادہ مالدار ہیں۔اس آیت سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ کشف ہے ورنہ جب کشتی میں چھیدکیاتھا توکشتی غرق کیوں نہ ہوجاتی۔قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيْعَ مَعِيَ صَبْرًا۰۰۷۳ اس (برگزیدہِ خدا)نے کہا۔(کہ)کیا میں نے (تجھے )کہانہیں تھا (کہ)تومیر ے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہیں کرسکے گا۔تفسیر۔یعنی میں نے توپہلے سے ہی کہہ د یا تھا کہ میری تعلیم اور تمہار ی تعلیم میں زمین و آسمان کا فرق ہے تم لوگ میرے ساتھ سفرنہیں کرسکتے جب تک اپنے نفوس کو بالکل مار نہ دو۔