تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 572
زکوٰۃ کاکوئی حکم ان میں نہیں۔سود کی کھلی اجازت ہے جوئے کی اجازت ہے جائیداد کوبہت سے ورثاء میں تقسیم کرنے کاکوئی حکم نہیں۔بہت سے امراء اپنے بڑے بیٹوں کودولت سپرد کرکے خاندان کی دولت کو بڑھاتے جاتے ہیں۔اسی طرح ان کی شریعت میں مزدوروں کے حقوق کی حفاظت نہیں۔حالانکہ اسلام نے اس کےلئے بھی قواعد مقرر کئے ہیں تاکہ چندامراء غرباء کوغلام بنا کر اپنے اموال نہ بڑھاتے رہیں۔ان امتیازات کی وجہ سے یہود اورنصاریٰ اسلام میں داخل ہونے سے کتراتے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ اسلام نے قوم کو غرق کرنے کی راہ کھول دی ہے۔جس طرح یہ پہلاسبق ہے۔جواسراء میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کوملا ہے بالکل اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کواسراء کے دن پہلے ایک بڑھیا دکھائی گئی۔اوراس کے بعد جب پیالے پیش ہوئے توان میںسے پہلاپیالہ پانی کاتھا۔اور حضرت جبریل نے عورت کی بھی یہی تعبیر کی۔کہ یہ بڑھیا دنیاتھی اورپانی کی بھی یہی تعبیر کی۔کہ یہ مال تھا۔کیونکہ انہوں نے کہاکہ اگر تُو پانی پی لیتا توتوبھی غرق ہوجاتا اورتیری امت بھی غرق ہوجاتی۔یعنی دنیا کے کاموں میں منہمک ہوجاتی اوراللہ تعالیٰ سے تعلق کمزور پڑجاتا۔آنحضرت ؐ کی قوم اور موسیٰ کی قوم کے خیالات میں فرق دیکھو حضرت موسیٰ کی قوم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیالا ت میں کتنا فرق ہے۔رسول کریم صلعم کوتوجبریل یہ کہتا ہے کہ اگرتوپانی پی لیتاتوتیری قوم غرق ہوجاتی۔گویا وہ بے عیب سفینہ کو یعنی دنیاوی زندگی کو غرق ہوناقراردیتے ہیں۔لیکن حضرت موسیٰ یادوسرے لفظوں میں ان کی قوم ٹوٹی ہوئی سفینہ کا یعنی زکوٰۃ وغیر ہ قواعد سے دنیاوی اموال کے چندہاتھوںمیں جمع ہوجانے کوروکنے کانام قوم کاغرق ہونارکھتے ہیں۔جہاں اس قدراختلاف آراء ہو وہاں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کس طرح ہو سکتا ہے۔اورایک فریق دوسرے کی معیت پر کب تک صبر کرسکتاہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتاہے کہ جس طرح اس کشف میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عبداللہ پراعتراض کیا ہے کہ کشتی کے پیندے میں سوراخ کیوں کیا۔اسی طرح حضرت موسیٰ کی قوم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پراعتراض کیا ہے کہ چندے وغیر ہ لے کرقوم کوتبا ہ کیوں کرتے ہو۔چنانچہ قرآن کریم میں یہود کایہ اعتراض ان الفاظ میں بیان ہواہے۔وَقَالَتِ الْیَھُوْدُ یَدُ اللّٰہِ مَغْلُوْلَۃٌ (المائدۃ :۶۵)یعنی یہود چندوں وغیرہ کے مطالبات کو دیکھ کرکہتے ہیں کہ خوامخواہ انہوں نے قو م پر بوجھ ڈال دیا ہے۔کیا خدا تعالیٰ کے خزانوں میں کمی ہے کہ ہمارے محدود اموال کووہ خرچ کرائے گا جس کو اس نے دیناہوگاخود دےدےگا۔دوسرے لوگوں سے غرباء کی خدمت کیوں کروائی جاتی ہے۔گویا دوسرے لفظوں میں یہ کہ کشتی والوں کی کشتی کوکیوں چھیداجاتاہے۔اسی طرح عام کفار کے متعلق بھی قرآن میں آتاہے۔اوران میں یہود ونصاریٰ سب